’سب کچھ لے لو، سوات واپس کر دو‘

متاثرین کے مطابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ بھکاری بن گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کے مطابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ بھکاری بن گئے ہیں۔
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جلو زئی کیمپ، پشاور
  • وقت اشاعت

سوات آپریشن کے متاثرین نے کہا ہے کہ وہ بڑی مشکل سے اپنے گھر بار چھوڑ کر راستے کی تکلیفیں برداشت کرکے یہاں کیمپ پہنچے ہیں لیکن اب یہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

ایک متاثرہ شخص نے کہا کہ حکومت گندم، آٹا، گھی اور سب امداد اپنے پاس رکھے ہمیں صرف اپنا ٹوٹا پھوٹا وطن سوات واپس کردے۔

پشاور سے کوئی بیس کلومیٹر دور جلوزئی کیمپ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں اب سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں سے نئے آنے والے پناہ گزینوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی ہے۔

ان پناہ گزینوں نے کہا ہے کہ سوات آپریشن کے دوران ان کے مکانات پر حملے ہوئے راستے میں کرفیو اور کئی کئی گھنٹے پیدل سفر کیا ہے۔ ایک متاثرہ شخص نے کہاکہ مدین سے جب خوازہ خیلہ پہنچے تو وہاں طالبان اور فوج کی جنگ جاری تھی تو وہ وہاں رک گئے۔ کوئی پانچ گھنٹے کے بعد وہ بشام کی طرف روانہ ہوئے تو فوج نے وہاں پھر راستے میں روکا اور کرفیو نافذ کر دیا۔ بشام کے بعد پھر حالات خراب تھے اس کے بعد جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو وہ پشاور کے لیے روانہ ہوگئے اور یہاں اب پہنچے ہیں۔ دیگر افراد نے کہا ہے کہ یہ گندم آٹا اور دیگر اشیاء حکومت لے لے ہمیں یہ نہیں چاہیے انھیں بس اپنے تباہ شدہ وطن سوات بھیج دیں۔

جلوزئی کیمپ کے  سات فیز مکمل ہو چکے ہیں لوگوں کی رجسٹریشن کا کام ابھی بھی جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنجلوزئی کیمپ کے سات فیز مکمل ہو چکے ہیں لوگوں کی رجسٹریشن کا کام ابھی بھی جاری ہے۔

سوات کے قریب گل کدہ میں کریانہ سٹور کا مالک اکرام الدین جلوزئی کیمپ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ موجود تھے۔ اکرام الدین نے بتایا کہ سوات میں روز مرہ استعمال کی اشیاء نہیں تھیں۔ فوج اور طالبان کے مابین جھڑپیں جاری تھیں اور راستے میں انھوں نے ایک شخص کی سر کٹی لاش دیکھی جس کی بے حرمتی کی جا رہی تھی۔

اکرام الدین کے مطابق وہ دو دنوں سے یہاں موجود ہیں اور یہاں خوراک کی کوئی چیز نہیں ملی صرف گندم فراہم کی گئی ہے۔ ’اب میں گندم کا کیا کروں میرے بچے میرے سامنے مر رہے ہیں وہ فرش پر پڑے ہیں اور زندگی میں کبھی وہ فرش پر نہیں سوئے۔ حکومت آ کر ان کا گلہ کاٹ دے لیکن ان بچوں کو کچھ دے تو دے۔ اب تو وہ بھکاری بن گئے ہیں۔‘

اس بارے میں رجسٹریشن کے عملے سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس کیمپ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ خواتین بچے اور بزرگ امداد کے لیے انتظامیہ سے رابطے کرتے رہے جہاں کچھ کی شنوائی ہوئی لیکن کچھ انتظار کرتے رہے۔

متاثرہ افراد میں بیشتر لوگ محنت مزدوری کرنے والے  تھے لیکن ایک بڑی تعداد متوسط طبقے سے بھی تھی۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرہ افراد میں بیشتر لوگ محنت مزدوری کرنے والے تھے لیکن ایک بڑی تعداد متوسط طبقے سے بھی تھی۔

ان متاثرہ افراد میں بیشتر لوگ محنت مزدوری کرنے والے تھے لیکن ایک بڑی تعداد متوسط طبقے سے تھی ۔ ایک نوجوان یاسر نے بتایا کہ ان کے والد ملک سے باہر ہیں۔ ایک بھائی پشاور یونیورسٹی میں ہوتے ہیں وہ اپنی والدہ اور دو بہنوں کے ساتھ انتہائی مشکل سے پہنچے ہیں۔ اب ان کی یہاں رجسٹریشن ہو گئی ہے اور انھیں ٹینٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

جلوزئی کیمپ کے سات فیز مکمل ہو چکے ہیں اور اس کیمپ میں لوگ رجسٹریشن اور امداد کی تقسیم کے لیے پریشان تھے۔ ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے لاکھوں لوگ بھکاری بن گئے ہیں۔