کراچی، پولیس فائرنگ، تین ہلاک

کراچی میں مالاکنڈ آپریشن متاثرین کی آمد کے خلاف قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کی ریلی پر شیلنگ اور فائرنگ ہوئی، جس دوران تین کارکن ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے پولیس پر حملہ کیا اور اسلحہ چھیننے کی کوشش کی، پولیس نے چالیس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واقعے کے بعد اندرون سندھ مختلف شہروں میں فائرنگ کے واقعات ہوئے اور کاروبار بند کر دیے گئے۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے بدھ کی دوپہر گورنر ہاؤس کے قریب واقع فوارہ چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا، اس موقع پر پولیس نے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاوس جانے والے راستوں کو کنٹینروں اور گاڑیوں کی مدد سے بند کر دیا تھا۔
دوپہر کو سپر ہائی وے کے قریب دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والے شرکا اور پولیس میں تصادم ہوا اور فائرنگ کی گئی۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ ان کا جلوس جیسے ہی کراچی میں داخل ہو رہا تھا کہ نادرن بائی پاس پر فائرنگ کی گئی جس میں ان کے تین کارکن ہلاک اور سات زخمی ہوگئے یہ سندھ حکومت کا ظالمانہ اقدام ہے ۔

سماجی تنظیم ایدھی ایمولینس کے مطابق انہوں نے فراز مگسی کی لاش جناح اور علی حسن مگسی اور بارات کلمتی کی لاشیں عباسی ہسپتال پہنچائی ہیں۔
ایس پی گڈاپ راؤ انور نے دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے پولیس پر حملہ کیا، پتھراؤ کیا ہے لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑے اور پولیس سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس نے فائرنگ اور شیلنگ کی ہے۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنوں نے بعد میں وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کیا انہیں چند فرلانگ پر کنٹیٹر لگاکر روک دیا گیا، اور کارکن دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ انیس سو سینتالیس اور انیس سو اکیاون میں بھارت سے لوگوں کی نقل مکانی اور اس کے بعد افغانستان کی جنگ کے بعد مہاجرین کی سندھ آمد سے مقامی لوگوں کے وسائل پر دباؤ میں اضافہ ہوا اور وہ اقلیت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن متاثرین کو صوبہ سرحد میں کیمپ لگا کر بسایا جائے سندھی قوم پرست صوبے بھر میں چندہ کر کے انہیں تمام سہولیات فراہم کریں گے انہیں ان سے ہمدردی ہے مگر وہ سندھ کا رخ نہ کریں۔

سندھ میں آپریشن متاثرین کی آمد کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی نے سندھی قوم پرستوں سے رابطہ کرکے اعتماد میں لینے کی کوشش کی تھی مگر انہیں کامیابی نہیں ہوسکی۔ اے این پی کے صوبائی صدر شاہی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمے داری پوری کی ہے۔
مالاکنڈ آپریشن متاثرین کی آمد کے سندھ سے اکثریت حاصل کرنے والی حکمران جماعت پیپلز پارٹی اس فیصلے کی وجہ سے سندھی دانشوروں اور قوم پرستوں جماعتوں کی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
صوبے بھر میں تین ہڑتالیں اور سینکڑوں مظاہرے ہوچکے ہیں، جن میں آپریشن متاثرین کی آمد پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ان احتجاجوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہوچکی ہے۔






















