کمرہ نمبر چار سو گیارہ

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پشاور کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں ہونے والے دھماکے کو بارہ گھنٹے سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اب بھی ملبے سے لاشوں کی تلاش جاری ہے لیکن میرے ذہن میں اب بھی کمرہ نمبر چار سو گیارہ کا منظر پھر رہا ہے۔
بی بی سی کی خصوصی نشریات کے سلسلے میں مالاکنڈ کے متاثرین کے صوابی اور مردان میں واقع کیمپوں کا جائزہ لینے کے بعد آٹھ اور نو جون کی درمیانی شب پشاور کے پی سی ہوٹل میں کمرہ لیا۔ کمرہ نمبر چار سو گیارہ میں سامان رکھا کچھ دیر بعد پشاور میں بی بی سی کے ساتھی رفعت اورکزئی ملنے آئے۔
صوبہ سرحد میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور بالخصوص’'پی سی ہوٹل‘ میں سیکورٹی خدشات پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہوٹل اب تک محفوظ ہے جس کی وجہ یہاں سخت سیکورٹی کی تعیناتی اور سڑک سے ہوٹل کی عمارت کی مناسب فاصلے کی وجہ سے یہ اب تک بچا ہوا ہے۔
میں اٹھا اور پردے بند کیے اور رفعت سے کہا کہ ’ہوسٹائیل اینوائرنمینٹ کورس‘ میں سیکھا ہے کہ شیشوں کے سامنے پردے لگے ہوں تو وہ بند کردیں کیونکہ اگر کچھ ہوتا ہے تو پردے کی وجہ سے بچت ہوجاتی ہے۔ کچھ دیر بعد رفعت چلے گئے اور میں نے دن بھر کی ریکارڈنگ کو فلیش مائیک سے اپنے لیپ ٹاپ میں منتقل کیا اور ڈیڑھ بجے بھوک کا احساس ہوا تو کھانا کھاکر سوگیا کیونکہ صبح پھر مردان جانا تھا۔
صبح پانچ بجے آنکھ کھل گئی۔ اچانک خیال آیا کہ اکثر خود کش حملے فجر کے وقت ہوتے ہیں اور اگر یہاں دھماکہ ہو تو کیا ہوگا؟۔ نیم نیند والے ماحول میں، میں نے تکیے اپنے اوپر رکھے اور سوچا کہ کچھ بچت ہوجائے گی۔ کروٹیں بدلتا رہا اور آخر کار ساڑھے سات بجے تیاری شروع کی۔ کچھ کپڑے اور اشیاء کمرے میں چھوڑیں اور ناشتہ کے بعد بتا کر چلا گیا کہ رات کو آؤں گا۔

پروگرام کے مطابق بی بی سی کو ایک گھنٹے کی خصوصی نشریات بدھ کی شام مردان سے نشر ہونی تھی لیکن دفتر سے اطلاع ملی کی منگل کو بارہ پندرہ منٹ کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن کرنی ہے۔ راستے میں ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے فیصلے پر سوچتا رہا کہ پشاور پہنچتے پہنچتے رات کے گیارہ بج جائیں گے اور پھر وہی تھکاوٹ اور مصیبت۔
نو جون منگل کو مردان کے کیمپوں میں پھرنے کے بعد رات کو براہ راست پروگرام کیا اور دس بجے پشاور کے لیے روانہ ہوئے۔ بی بی سی کے ساتھی ہارون رشید نے بھی کہا کہ وہ میرے ساتھ پشاور جائیں گے۔ ہم دونوں پشاور جبکہ دیگر ساتھی واپس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔
ہارون رشید نے مشورہ دیا کہ رات کے وقت موٹر وے کا سفر ٹھیک نہیں لہٰذا جی ٹی روڈ سے چلتے ہیں۔ جیسے ہی نوشہرہ سے گزرے تو فرقان کا فون آیا کہ ’پی سی پشاور‘ میں بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ میں ان سے کہا کہ مذاق مت کریں۔ فرقان نے فون مسعود کو پکڑایا تو انہوں نے بھی وہی بات کی۔ میں نے ہارون کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں ڈرا رہے ہیں۔ کچھ دیر میں پشاور سے ہمارے ساتھی دلاور خان وزیر کا فون آیا اور وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ میں بھی اُسی پی سی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ پی سی میں بہت بڑا دھماکہ ہوگیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ہوٹل سے باہر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ آپ ہوٹل میں نہیں تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ دیر بعد گھر سے اور دوستوں کے فون آنا شروع ہوگئے اور اتنی دیر میں جب ہوٹل کے قریب پہنچے تو راستے بند تھے اور ہوٹل سے ایمولینس نکل رہی تھیں۔ پولیس نے جانے نہیں دیا لیکن تھوڑے فاصلے سے جو ہوٹل کی حالت دیکھی تو ایک لمحے کے لیے خود کو بھی ملبے تلے دبا رہنے کا احساس ہوا۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ ’قدرت نے مجھے آج نئی زندگی دی ہے اور بھلا ہو ہارون رشید اور عامر احمد خان کا کہ جنہوں نے ٹیسٹ ٹرانسمیشن کا فیصلہ کیا ۔۔ ورنہ شاید میں آج اس دنیا میں نہیں ہوتا‘۔
ہم وہاں سے کسی گیسٹ ہاؤس کی تلاش میں روانہ ہوئے تو ڈرائیور سعید نے کہا کہ ’یہ اچھا ہوا کہ ہم جی ٹی روڈ سے آئے تو آدھا گھنٹہ دیر سے پہنچے ورنہ موٹر وے سے میرا ارادہ تھا کہ کھینچ کے رکھوں گا اور اگر ایسا ہوتا تو ہم دھماکے کے وقت ہوٹل میں ہوتے یا اس کے قریب پہنچ چکے ہوتے۔۔ آپ تو کمرے میں جاتے میں پارکنگ میں ہوتا اور میری تو بوٹی بوٹی ہوجانی تھی۔۔ دیکھیں اللہ کا کرشمہ۔۔یہ ہوتی ہے قدرت‘۔ وہ بولتا ہی گیا۔ میرے ذہن میں زمین بوس ہوٹل اور اس کے ملبے تلے خود کے دبے رہنے کا احساس بڑھتا گیا اور انگریزی کا وہ محاورہ کہ ’مین پروپوزز گاڈ ڈسپوزز‘۔۔ یعنی بندہ سوچتا ہے۔۔ کرتا خدا ہی ہے‘ میرے ذہن میں نقش ہوگیا ہے۔






















