’بجٹ امیروں کا، عوام تو پسنے کے لیے ہے‘

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان کا وفاقی بجٹ سنیچر کو ایسے حالات میں پیش کیا جارہا ہے جب گذشتہ برس کے معاشی اشاریوں نے زراعت کے سوا تقریباً ہر شعبے میں ریکارڈ تنزلی دکھائی ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والے اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ افراط زر بے روزگاری اور مہنگائی کے طوفان نے نہ صرف ملکی اقتصادیات کی چولیں ہلاکر رکھ دی ہیں بلکہ انفرادی سطح پر لوگوں کی معاشی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کہہ چکے ہیں کہ حالات جو بھی ہوں یہ بجٹ غریب دوست اور بجٹ تقریر عام فہم ہونی چاہیے۔ ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمشن سردار آصف احمد علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس برس چھ سو اکیس ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا جائے گا اور اتنا بڑا فنڈ ترقیاتی کاموں کے لیے اس سے پہلے کبھی نہیں رکھا گیا ہے۔
دوسری طرف اقتصادی ماہرین نے اس برس کے بجٹ کو سیاسی حکومت کے لیے لوہے کا چنا قرار دیا ہے۔سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی قرضوں میں اضافے کے بعداس کی بمعہ سود قسط غیر معمولی طور پر بڑھ چکی ہے۔خام ملکی پیداوار کی گرتی شرح نمو کے نتیجے میں ٹیکس آمدن میں کمی ہوئی ہے،سوات اور قبائلی علاقوں کی جنگ کے بھاری اخراجات، پچیس لاکھ سے زائد سواتی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال اور ملک بھر میں سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات ایسے اضافی بوجھ ہیں جو مرکزی حکومت کو اس بجٹ میں اٹھانا ہی پڑیں گے‘۔
ایک سال کے سخت قومی معاشی حالات کے بعد ہر طبقہ اپنے لیے ریلیف کا مطالبہ کررہا ہے لیکن بجٹ خسارے میں قرضے کے ذریعے حکومت کو ریلیف دینے والے ادارے آئی ایم ایف کی کچھ اپنی شرائط ہیں جو مبصرین کے بقول حکومت کو عوامی فیصلے کرنے سے باز رکھ رہی ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں شرح نمو دو فی صد رہی ہے جبکہ آبادی میں اضافہ کی شرح بھی دو فی صد کے لگ بھگ رہی یعنی بڑھتی ہوئی آبادی کا عفریت ترقی کی شرح کو ہڑپ کرچکا ہے اور جو تھوڑی بہت ترقی ہوئی تھی اس کا بیشتر حصہ پہلے سے دولت مند طبقہ وصول کرچکا ہے۔ نتیجےمیں پاکستان میں غربت کی لائن سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے او رغذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد سات کروڑ ستر لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
اس برس کی کساد بازاری توانائی کے بحران امن وامان کی صورتحال سٹیٹ بنک کی سخت قرضہ پالیسی نے پاکستان کی صنعتوں کو بری طرح متاثر کیا کئی کارخانے بند ہوئے اور متعدد کی پیداوار گر گئی حتی کہ مینوفیکچرنگ کی شرح نمو منفی تین فی صد رہی۔ماہرین کے اندازے کے مطابق صرف ٹیکسٹائل کے شعبےمیں کارخانے بند ہونے سے کم از کم تین لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔معاشی بحرانک دوران میں سرمایہ دار اور مزدور کے مفادات کے ٹکراؤ میں شدت آئی ہے۔
مہنگائی کی چکی میں پسنے والا محنت کش طبقہ اس بجٹ میں اپنے معاوضےمیں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے تو صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ مزید مالی بوجھ کارخانے بند کرائے گا۔ بعض محنت کش تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ان کا ماہانہ معاوضہ ایک تولے سونے کی قیمت کے برابر مقرر کیا جائے جبکہ کچھ طبقات نےاس بجٹ میں کم از کم اجرت دس ہزار روپے ماہوار مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صنعتکار چودھری سعید نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس بجٹ میں حکومت ایک بار پھر کم از کم اجرت میں اضافہ کرے گی جو صنعتکاروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔انہوں نے بجٹ کے بارے میں اپنے دیگر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نہ تو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کرسکے گی اور نہ ہی بنکوں کی شرح سود میں کمی کرے گی اور نتیجہ مزید کارخانوں کی بندش کی صورت میں نکلے گا اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا برآمدات مزید کم ہوں گی۔
گذشتہ مالی سال کے دوران جہاں ہر شعبہ ترقی معکوس پر رہا مشیر خزانہ شوکت ترین کےمطابق زرعی پیدوار ہدف سے بھی زیادہ رہی ہے۔اس کی بنیادی وجہ فصلوں کی سرکاری قیمت میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔اسی اضافہ کی وجہ سے کاشتکاروں نے گندم کی غیر معمولی پیداوار دی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کا اثر عام شہری کی جیب پر بھی پڑاہے اور اشیاء خوردونوش کی قمیتوں میں گرانی کا مسلسل رجحان ہے۔
عام شہریوں کی خواہش ہے کہ اس بجٹ میں بجلی تیل گیس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء سستی ہوں لیکن کاشتکار طبقہ گندم کی دوگنی قیمت حاصل کرنے کے باوجود مزید مراعات چاہتا ہے اور ان کی دلیل ہے چونکہ پاکستان کی بیشتر اقتصادیات زراعت پر مبنی ہے اس لیے تھوڑی مراعات اور چند اقدامات حیرت انگیز نتائج دے سکتے ہیں۔ایگری فورم پاکستان کے سربراہ ابراہیم مغل نے مطالبہ کیا ہے کہ فصلوں کی آبیاری کاشتکار کا بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے اس بجٹ میں کالا باغ ڈیم کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں جبکہ اس کے علاوہ کسانوں کو رعائتی ڈیزل بجلی اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں۔ اقتصادی ماہر سلمان شاہ نے کہا کہ بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے اگر ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی اور توانائی کے نئے منصوبے شروع نہ کیے گئے اور انفراسٹرکچر کو بہتر نہ بنایا گیا تو اگلے برس معاشی مشکلات کئی گنا ہوجائیں گی۔انہوں نے واحد حل بین الاقوامی امداد اور قرضوں پر انحصار قرار دیا۔پاکستان کے بیرونی قرضے ایک برس میں چھیالس ارب ڈالر سہ بڑھ کر پچاس ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
حالیہ قرضے دینے والاسب سے بڑابین الاقوامی ادارہ آئی ایم ایف ہے جس نےعوام کو ایندھن اور تیل میں دی جانے والی مختلف رعائیتوں کے خاتمے کی شرط عائد کی ہے۔ قرضہ لینے والے کی شرائط ماننا ہی پڑتی ہیں اسی لیے جب میں نے لاہور کے ایک بس سٹینڈ پرایک ادھیڑ عمر شہری سے پوچھا کہ بجٹ کے بارے میں ان کی کیا توقعات ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’عوام تو پسنے کے لیے ہے،یہ غریب طبقے کے لیے تو منفی سوچ ہی رکھتے ہیں،بجٹ ہے امیر لوگوں کے لیے‘۔ٰ






















