’ڈرامہ رکوانے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ‘

مدیحہ نے اس واقعہ کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے
،تصویر کا کیپشنمدیحہ نے اس واقعہ کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری ڈرامہ فیسٹیول میں جمعرات کی رات اجوکا تھیٹر گروپ کی پیش کش ’برقعہ ویگنزہ‘ کے دوران مقامی انتظامیہ کے ایک افسر کی بیوی کی ’ذاتی انا‘ نے اس وقت بدمزگی پیدا کر دی جب مبینہ طور پر ڈرامہ رکوانے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ بھیج دیا گیا۔

اس ڈرامے کے دوران اجوکا تھیٹر گروپ کی مدیحہ گوہر اور اپنے آپ کو ایک سرکاری افسر کی بیوی ظاہر کرنے والی ایک عورت کے درمیان تلخیاں اس حد تک بڑھ گئیں کہ مقامی انتظامیہ نے مبینہ طور پر اس ڈرامے کو رکوانے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ بھیج دیا تاہم ڈرامہ اپنے مقررہ وقت پر ختم ہوا اور انتظامیہ اسے نہیں رکوا سکی۔

اجوکا تھیٹر کی بانی اور معروف اداکارہ مدیحہ گوہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر اسد اللہ فیض کی اہلیہ اپنے چھ بچوں کے ساتھ جن کی عمریں پانچ سے نو برس کے درمیان تھیں ڈرامہ دیکھنے آئی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈرامے کے دوران بچوں نے مبینہ طور پر شور مچایا جس پر مدیحہ گوہر سٹیج سے اتر کر اس خاتون کے پاس آئیں اور انہیں چلے جانے کے لیے کہا۔ اس پر اس خاتون نے جاتے ہوئے تلخ کلامی کے بعد دھمکی دی کہ وہ ڈرامہ بند کروا دیں گی۔

مدیحہ گوہر کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک ڈپٹی کمشنر نے نیشنل کونسل آف دی آرٹس پہنچ کر ان کے لوگوں سے روشنیاں بند کرنے اور ہال خالی کروانے کا مطالبہ کیا تاہم ایسا نہ کرنے پر انہوں نے کئی مجسٹریٹوں کے ساتھ بم ڈسپوزل سکواڈ بھی طلب کر لیا۔ حالانکہ ہر ڈرامے کے آغاز میں حال اور تمام عمارت کی تلاشی لی جاتی ہے۔

تاہم بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر اسد اللہ فیض نے اس واقعے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں آپ کو معلوم کرکے اس کے بارے میں ہی کچھ بتا سکوں گا‘۔ تاہم مقامی انتظامیہ سے دوبارہ رابطے کی کوشش کامیاب نہیں رہی۔

اس مقبول ڈرامے کو دیکھنے کے لیے حال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور مدیحہ کے مطابق انہوں نے دباؤ کے باوجود ڈرامہ بند نہیں کیا۔ مدیحہ گوہر نے یہ الزام بھی لگایا کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس نے بعد ازاں اجوکا کے اداکاروں کے گیسٹ ہاؤس پہنچ کر انہیں بھی ہراساں کیا اور ان کے کمروں کی تلاشی لی۔

مدیحہ نے کہا کہ ’اجوکا کا ایک قابل عزت نام ہے وہاں بھی انہوں نے ہمیں جرائم پیشہ افراد کی طرح سلوک کیا۔ یہ ایک انتہائی غیراخلاقی اور غیرقانونی قدم تھا۔ اس پر جتنا شور مچایا جائے کم ہے‘۔

خیال رہے کہ ’برقعہ ویگنزہ‘ پر گزشتہ برس بھی حکام نے پابندی عائد کی تھی۔