نئے مالی سال کے بجٹ کا اعلان آج ہوگا

بجٹ
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ نیا بجٹ بھی خسارے والا بجٹ ہوگا
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ سنیچر کی شام خزانہ اور اقتصادی امور کی وزیرِ مملکت حنا ربانی کھر قومی اسمبلی میں پیش کریں گی۔

بجٹ کی منظوری کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں پندرہ سے بیس فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں سگریٹ، کاسمیٹکس، پرفیوم، الیکٹرانکس، بڑی گاڑیوں، ڈبوں میں بند فوڈ، چائے اور کافی پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

نئے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے چھ سو چھیالیس ارب روپوں سے زیادہ رقم مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ جس میں پچاس ارب روپے مالاکنڈ کے متاثرین کے لیے بھی مختص ہوں گے۔

حکام کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر پاکستانی فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی شراکت کی وجہ سے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق دفاعی بجٹ کا حجم تین سو چالیس ارب روپے سے زیادہ ہے۔ نئے بجٹ میں فوجیوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ صدر زرداری اس اضافے کا اعلان قوم سے اپنے خطاب میں پہلے ہی کرچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیا بجٹ بھی خسارے والا بجٹ ہوگا جس میں زرعی اور صنعتی شعبوں کے لیے کئی مراعات تجویز کی گئی ہیں۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے حکومتِ پاکستان کے معاہدے کے مطابق بجلی کے لیے دی جانے والی پچھہتر ارب روپوں سے زیادہ کی رعایت حکومت کو نئے بجٹ میں ختم کرنی ہے۔ جس سے تقریبًا دس فیصد بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوگا۔

تاہم یہ فیصلہ ابھی ہوناباقی ہے کہ آیا اس کا اعلان بجٹ تقریر میں کیا جائے یا بجٹ کے بعد ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے کیا جائے۔