ترقیاتی بجٹ، سوا دو کھرب سے زائد اضافہ

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان میں آئندہ مالی سال سنہ دو ہزار نو۔دو ہزار دس کے بجٹ میں قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے رواں سال کی نسبت قریباً دو کھرب اکتیس ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
بجٹ میں لگ بھگ پچاس وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے کل چھ کھرب چھیالیس ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اسیٹبلشمنٹ ڈویژن میں اس سال کی نسبت آئندہ سال کے لیے مختص رقم میں کمی کی گئی ہے۔
آئندہ سال اور رواں سال کے بجٹ میں قومی ترقیاتی پروگرام کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو اس میں فنانس ڈویژن میں سب سے زیادہ رقم بڑھائی گئی ہے جو رواں سال کے لیے مختص چھ ارب ستر کروڑ روپے سے بڑھا کر پینتالیس ارب ساٹھ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
قومی ترقیاتی پروگرام میں واپڈا کے لیے سڑسٹھ ارب اٹھاون کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سن دو ہزار آٹھ دو ہزار نو میں یہ رقم چالیس ارب اکیس کروڑ روپے تھی۔ اس کے لیے پندرہ ارب پچیس کروڑ روپے کے قرضے حاصل کیے جائیں گے۔
اس سال واپڈا میں پانی کے حوالے سے سینتالیس ارب پچیس کروڑ اور توانائی کی مد میں بیس ارب پینتیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے منصوبوں کے لیے انیس ارب ترپن کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اس سال یہ رقم پندرہ ارب روپے تھی۔ اسی طرح پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں چوالیس کروڑ چھہتر لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ رواں سال یہ رقم پچیس کروڑ پچھہتر لاکھ روپے تھی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لیے بیرونی قرضہ جات دو ارب اٹھانوے کروڑ روپے تھے جو بڑھ کر چار ارب تینتالیس کروڑ روپے تک ہو گئے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں تیرہ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ مالی سال دو ہزار آٹھ دو ہزار نو میں یہ رقم پندرہ کروڑ روپے تھی۔
دفاع کے حوالے سے سپارکو سمیت ڈیفنس ڈویژن کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں سات ارب اٹھاون کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ دو ہزار آٹھ دو ہزار نو میں یہ رقم دو ارب انتیس کروڑ تھی اور اس کے لیے آئندہ سال کے دوران سڑسٹھ کروڑ روپے کے قرضہ جات حاصل کیے جائیں گے۔ اسی طرح ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کے لیے مختص رقم اکیاون کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب ستتر کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ رقم صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہے انتظامی امور اور دیگر شعبوں کے لیے مختص رقم اس سے الگ ہے۔
اسی طرح صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے بھی رقم بڑھائی گئی ہے۔ تعلیم کے شعبے کے لیے آئندہ سال کے لیے آٹھ ارب پچپن کروڑ روپے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے ساڑھے بائیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے کے لیے تیئس ارب پندرہ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سال دو ہزار آٹھ دو ہزار نو کی نسبت خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔
داخلی امور کی وزارت کے لیے آئندہ سال کے لیے سات ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پوسٹل سروس کے لیے سال دو ہزار آٹھ دو ہزار نو میں کوئی رقم مختص نہیں تھی لیکن اس سال تیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبوں میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے دو کھرب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اس سال یہ رقم ایک کھرب ستر ارب روپے تھی۔






















