نعیمی سپرد خاک، ایف آئی آر درج

ڈاکٹر نعیمی کی میت
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر نعیمی کو اپنے والد کی قبر کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور میں جمعہ کو ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے عالمِ دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قتل کی ایف آئی آر مقامی پولیس سٹیشن میں درج ہوگئی ہے جس میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے بیت اللہ محسور اور ان کے ساتھیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نعیمی کو سنیچر کے روز لاہور میں سپرد خاک کردیا گیا۔

ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قتل کی ایف آئی آر ان کے بیٹے راغب حسین نعیمی نے درج کرائی ہے ۔ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں ہونے والی اس ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ دیگر فوجداری دفعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مدعی راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ ان کے والد اس فوجی آپریشن کی حمایت کررہے تھے جو دہشت گردوں اور معصوم شہریوں کے خون کی ہولی کھیلنے والوں کے خلاف جاری ہے اور اسی بنا پر انہیں دھمکیاں بھی ملیں۔

ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر نعیمی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’وطن دشمنی اور ملک کی سلامتی کے منافی سرگرمیوں‘ پر شدید تنقید کررہے تھے اور انہوں نے دیگر علماء کے ساتھ مل کر خودکش حملوں کے خلاف فتویْ دیا اور اسی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان کے ذمہ داران ڈاکٹر نعیمی سے سخت نالاں تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق بیت اللہ محسود کے ایماء پر مدعی کے والد ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو قتل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نعیمی کے جنازے کے کچھ شرکاء کے بینر

ادھر ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی نمازہ جنازہ شہر کے وسط میں واقع ناصر باغ میں ادا کی گئی جس کی امامت ان کے بیٹے راغب نعیمی نے کی اور پنجاب پولیس کے ایک دستے نے اس موقع پر میت کو سلامی بھی دی۔

نماز جنازہ کے لیے کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے اور پولیس نے ناصر باغ کو جانے والے تمام راستوں کو نماز جنازہ کے مقررہ وقت سے چار گھنٹے پہلے ہی عام ٹریفک کے لیے بند کردیا تھا جبکہ اردگرد کی عمارتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والوں کو تلاشی کے بعد باغ کے اندر جانے کی اجازت تھی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ناصر باغ پہچایا گیا اور نماز جنازہ کے بعد دوبارہ میت کو ہیلی کاپٹر میں ہی جامعہ نعیمہ لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین کے ان کے والد کے پہلو میں کی گئی۔

نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں نے ناصر باغ کے باہر ڈاکٹر نعیمی کے قتل پر احتجاج کیا ۔مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے اور طالبان کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔بعدازں مظاہرین نے مال روڈ پر پرامن دھرنا بھی دیا جو دو گھنٹوں تک جاری رہا۔

ڈاکٹر نعیمی کی ہلاکت پر ایم کیو ایم اور دینی جماعتوں نے سوگ منایا جبکہ پنجاب حکومت نےسینچر کو مقامی تعطیل کا اعلان کیا تھا۔لاہور کی تاجر تنظیمو ں کے اعلان کی وجہ سے تمام بڑی مارکیٹیں بند رہی جس سے سڑکوں کو ٹریفک بھی معمول سے کم نظر آئی۔