ججوں کی تعیناتی ہائی کورٹ کرے گی

سندھ ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشن ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کے اختیارات پبلک سروس کمیشن کو دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ماتحت عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کے اختیارات ہائی کورٹ کے پاس واپس آ گئے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے پیر کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ بار کونسل کی درخواستوں کو منظور کرلیا۔

ان درخواستوں میں ماتحت عدالتوں میں ججوں کے تعیناتی کے اختیارات پبلک سروس کمیشن کو دینے کے حکومتی فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

اس درخواست میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور، صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے چئرمین کو فریق بنایا گیا تھا۔

عبدالحلیم صدیقی اور منیب الرحمان ایڈووکیٹ نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے جوڈیشل رولز انیس سو چورانوے میں ترامیم کرکے ماتحت عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے جو اختیارات کمیشن کو دیے ہیں یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے جس کا مقصد میرٹ کو نظر انداز کرکے من پسند لوگوں کو نوازنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ عدلیہ سے انتظامیہ کی علیحدگی کے تصور اور الجہاد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے روبرو پیر کو ایڈووکیٹ رشید رضوی اور ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد بار کی درخواستوں کو منظور کرلیا گیا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

اس سے قبل رشید اے رضوی کامؤقف تھا کہ سول ججوں کی تقرری کا اختیار پبلک سروس کمیشن کو سونپا گیا تو ماتحت عدلیہ کی آزادی برقرار نہیں رہے گی۔

’سپریم کورٹ نے جس طرح سے وقتاً فوقتاً اپنے مختلف فیصلوں کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کی تعریف بیان کی ہے، حکومت سندھ کا یہ نوٹیفیکیشن اس کے سراسر منافی ہے اور اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق پبلک سروس کمیشن سول سروس کے لیے بھرتیوں کا کام کرتا ہے جبکہ ججوں کا تقرر جوڈیشل سروس ہے اور جوڈیشل سروس میں بھرتی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ججوں کا انتخاب اعلٰی عدالت کرتی ہے اور ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن حکومت سندھ جاری کرتی ہے۔

’آج بھی یہ پریکٹس تین صوبوں میں قائم ہے، کیوں انہوں (حکومت) نے صرف سندھ میں ہی ہائی کورٹ سے یہ اختیار واپس لیا ہے؟ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی تو چیف جسٹس کی سفارش پر مقرر ہوتے ہیں تو پھر سول ججوں کا انتخاب ہائی کورٹ کے ذریعے کیوں نہیں؟‘