’پورا ملک حملوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے‘

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنگورنر سرحد اویس احمد غنی نے جنوبی وزیرستان میں نہ صرف بیت اللہ محسود کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا ہے بلکہ انہوں نے پورے محسود قبیلے پر الزام لگا یا ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جس مبینہ جنگ کا آغاز سات سال پہلے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ہوا تھا وہ مختلف قبائلی اور بندوبستی علاقوں سے ہوتی ہوئی ایک مرتبہ پھر سنگلاخ پہاڑی سلسلے تک پہنچ گئی ہے۔

نائن الیون کے بعد افغانستان سے پاکستان میں آنے والے شدت پسندوں اور ان کے مقامی ساتھیوں کے خلاف پہلی کارروائی چھبیس جون دوہزار دو کو جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک کے گاؤں کژہ پنگہ میں ہوئی تھی۔ آپریشن کے دوران ایک مکان کے اندر گن شپ ہیلی کاپٹر سے دو ازبکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے بعد ایک سال تک یہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوئی اور شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن کی ذمہ داری قبائلی عمائدین کے سپرد کردی گئی تھی۔اس سرچ آپریش کے لیے یہ طریقہ کار اپنایا گیا تھا کہ پولیٹکل انتظامیہ ایک دن پہلے قبائلی عمائدین کو نشان دہی کرتی اور پھر دوسرے دن قبائلی عمائدین تلاشی کے لیے اسی مکان میں چلے جاتے ۔

حکومت کے اس طریقہ کار کے تحت دوہزار دو سے دو ہزار تین تک غیر ملکیوں اور ان کے مقامی ساتھیوں کو زبردست حوصلہ ملا اور علاقے کے مذید لوگ ان کے گروپوں میں شامل ہوتے چلےگئے۔

اب ایک بار پھر گورنر سرحد اویس احمد غنی نے جنوبی وزیرستان میں نہ صرف بیت اللہ محسود کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا ہے بلکہ انہوں نے پورے محسود قبیلے پر الزام لگا یا ہے کہ ایف سی آر اور قومی ذمہ داری کے قانون کے تحت محسود قبائل نے نہ تو بیت اللہ کو حکومت کے حوالے کیا اور نہ ہی غیر ملکیوں کو علاقے سے نکالنے کی کوشش کی۔ گورنر کا یہ اعلان کہ محسود قبائل نے ذمہ داری پوری نہیں کی ہے اس لیے مناسب نہیں ہوگا کیونکہ قبائلی علاقوں میں طالبان کے آمد کے بعد پولیٹکل انتظامیہ اور قبائلی جرگے غیر موثر ہوچکے ہیں اور فوج خود شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ پورے قبیلے کے خلاف کریک ڈؤان اور گرفتاریاں پہلے بھی ناکام ہوچکی ہیں۔

سوات اور وزیرستان میں جاری فوجی کارروائیوں میں ایک فرق یہ ہے کہ سوات میں صرف شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جب کہ وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ اس آپریشن کا نشانہ عام قبائل بھی بن رہے ہیں کیونکہ حکومت نے اس میں ایف سی آر، قومی اور علاقائی ذمہ داری کے قانون کو شامل کرکے اس کے تحت کئی قبائلوں کو گرفتار کیا ہے۔

اس کے علاوہ نیم قبائلی علاقے جانی خیل میں ایک طرف شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری ہے دوسری طرف انتظامیہ نے علاقائی ذمہ داری کے تحت جانی خیل اور بکاخیل قبائل کے خلاف مختلف علاقوں میں کریک ڈوان شروع کر رکھا ہے۔

حکومت نے بیت اللہ محسود کے خلاف بھر پور فوجی آپریشن کا اعلان گزشتہ روز کیا لیکن تیاریاں ایک ماہ سے جاری تھیں۔ جس میں ہزاروں فوجی ٹینکوں اور توپخانوں کی مدد سے جنوبی وزیرستان میں داخل ہوچکی ہے۔نیم قبائلی علاقے جنڈولہ سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی وزیرستان کے علاقے چگملائی اور سپینکئی راغزئی کے پہاڑی سلسلوں میں فوج نئے مورچے اور بنکرز بنا رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں فوج کے آنے کے بعد وانا سے ملنے والے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی مرکزی شاہراہیں بھی بدستور دو مہینوں سے بند ہیں۔ لوگ چار گھنٹوں کا سفر براستہ ژوب بلوچستان سولہ گھنٹوں میں طے کرتے ہیں۔

دوسری طرف طالبان کی جنگی تیاریاں بھی فوج سے کم نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے اورکزئی، کُرم اور خیبر ایجنسیوں کے امیر حکیم اللہ محسود سینکڑوں جنگجوؤں کے ساتھ جنوبی وزیرستان پہنچ چکے ہیں۔ تحصیل سراروغہ، لدھا اور مکین کے پہاڑی علاقوں میں طالبان پہلے ہی سے اپنے ٹھکانے مضبوط کرچکے ہیں۔اور طالبان نے وانا کے لیے محسود کے علاقے سے گزرنے والی بجلی کی مین لائن کے کئی ٹاور کو اڑا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وانا سکاؤٹس چھاؤنی اور زیڑی نور فوجی کالونی کی بجلی سپلائی دو مہینوں سے منقطع ہے۔

بیت اللہ محسود کے خلاف یہ پہلی فوجی کارروائی نہیں ہے۔ بلکہ اس پہلے بھی کئی بار جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان کے خلاف فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں دو بار فوج بیت اللہ کے ساتھ امن معاہدے کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔گزشتہ سال ایک معاہدے میں طالبان کے کہنے کہ مطابق یہ طے پایا تھا کہ فوج محسود کے علاقے میں پیش قدمی نہیں کرے گی۔ اس کے بعد طالبان نے فوج پر محسود کے علاقے میں پیش قدمی کا الزام لگا کر وانا سے لدھا جانے والے قافلے میں شامل تین سو فوجی اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا۔

فوجیوں کے اغوا کے اس بڑے واقعے کے بعد فوج نے تقریباً محسود کے علاقے کو خالی کردیا تھا کیونکہ علاقہ محسود میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک رسد پہنچانا ناممکن ہوگیا تھا۔ لدھا سکاؤٹس قلعہ انگریز دور کا بنا ہوا ایک مضبوط اور مشہور قلعہ ہے لیکن طالبان نے اس قلعہ کو کئی ہفتوں تک محاصرے میں رکھا جس میں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر سے راشن پہنچانے کی کوشش گئی لیکن یہ عمل کامیاب نہیں ہوا اور آخر کار قلعہ کو خالی کرکے فوج وہاں سے رخصت ہوگئی۔

جنوبی وزیرستان رقبے اور آبادی کے لحاظ سے تمام قبائلی ایجنسیوں میں سب بڑی ایجنسی ہے۔ یہاں دو بڑے قبیلے محسود اور وزیر قبائل کے علاوہ تین دوسرے چھوٹے چھوٹے قبیلے آباد ہیں جن میں سلیمان خیل، دوتانی اور برکی شامل ہیں۔ سلیمان خیل اور دوتانی قبائل میں کوئی طالب موجود نہیں ہے البتہ برکی قبائل سے تعلق رکھنے والے طالبان بیت اللہ گروپ کا حصہ ہیں۔ محسود قبائل کے علاقے زیادہ تر پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں اور مبصرین کے مطابق ان علاقوں میں فوج کےلیے کارروائیاں کرنا انتہائی مشکل اور کھٹن مرحلہ ہوگا۔

گورنر سرحد اویس احمد غنی کے بیان سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ پہلے کے نسبت بیت اللہ کے خلاف کارروائی بھر پور انداز میں ہونے کے امکانات ہیں۔ لیکن اگر علاقائی صورتحال کو دیکھا جائے تو بیت اللہ کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو ایک طرف شدید مزاخمت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے اور دوسری طرف یہ جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وانا کے طالبان کمانڈر ملا نذیر اور شمالی وزیرستان کے طالبان رہنما حافظ گل بہادر نے چند مہینے پہلے بیت اللہ محسود کے ساتھ مل کر ’شوریٰ اتحاد‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی تھی۔ تاہم یہ تنظیم پاکستان میں کارروائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا مقصد افغانستان میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ایک ساتھ لڑنا تھا۔ اب ملا نذیر اور حافظ گل بہادر شاید اس جنگ میں بیت اللہ محسود کا ساتھ نہ دیں کیونکہ دونوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بیت اللہ کے خلاف ان کے علاقوں کو استعمال کیا تو وہ سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

حکومت کا بیت اللہ محسود کے خلاف تازہ اعلان جنگ سے بظاہر اس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی لڑائی جنوبی وزیرستان سے شروع ہوئی تھی اور یہیں اس لڑائی کو دفن کردیا جائے گا۔. تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بیت اللہ گروپ کے کمزوری سے ملک میں عمومی طورپر اگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی آسکتی ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس آپریشن کی وجہ سے پورا ملک ہی حملوں کی لپیٹ میں آ جائے۔