’چھ شدت پسند ہلاک، چھ زخمی‘

پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سرحد کے زیرانتظام مالاکنڈ ڈویژن اور جنوبی ضلع بنوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں چھ شدت پسند ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سوات کے علاقے گوڈہنڈ اور ارکوٹ میں سرچ آپریشن کے دوران اپنی پوزیشنیں مستحکم کی ہیں۔ شدت پسندوں نے بنمانی سر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی ہے جبکہ جوابی حملے میں کئی عسکریت پسند مارے گئے تاہم ان کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔
سکیورٹی فورسز نے بیان کے مطابق علی گرامہ کے علاقے کو کلئیر کردیا ہے اور اس دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی بڑے مقدار میں برامد کیا گیا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وادی پیوچار میں بھی کارروائی کی ہے جبکہ تحصیل مٹہ میں گھر گھر سرچ آپریشن جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع دیر بالا میں شدت پسندوں نے قومی لشکر پر حملہ کیا ہے جس کے جواب میں قومی لشکر نے بھی کارروائی کرتے ہوئے پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا جبکہ ان کے تین مکانات بھی تباہ کیے گئے۔
سرکاری بیان کے مطابق پولیس نے ایف آر بنوں کے علاقے میں بکا خیل سے جانی خیل جانے والے ایک مشتبہ گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا تاہم گاڑی نہیں رکی جس پر پولیس نے فائرنگ کردی جس سے گاڑی میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
بیان کے مطابق گاڑی خودکش حملے کےلیے تیار کی گئی تھی جس میں حملہ آوار خود ہی مارا گیا۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے جانی خیل قلعہ اور سارا بنگل کے علاقوں میں بھی اپنی پوزیشنیں مستحکم کی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مردان میں بے گھر ہونے والے متاثرین میں دو ٹرک امدادی اشیاء تقسیم کی گئی ہیں۔
ادھر سوات کے صدر مقام مینگورہ میں ایک ماہ سے معطل بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے سہولیات بحال کردی گئی ہیں۔ آئی ایس پی ار کے ایک ترجمان کے مطابق شہر میں گیس، بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے کچھ علاقوں میں ٹیلی فون سروس نے بھی کام کرنا شروع کردیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















