تعلقات میں ایک بار پھر کڑواہٹ

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنماؤں کے لہجوں میں بڑھتی ہوئی تلخی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ اس کے حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تعلقات کڑواہٹ کا شکار ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تلخی کے پیچھے اس معاہدے کا افشا ہونا ہے جو مبینہ طور پر نواز شریف اور سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے درمیان ہوا تھا۔ اس معاہدے کو مسلم لیگ نون کے مخالفین معافی نامہ قرار دیتے ہیں۔
اس معاہدے یا معافی نامے کو سندھ حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں پیش کیا ہے۔ اس کےبعد مسلم لیگ کی قیادت نے اس معاہدے کے عدالت میں پیش کیے جانے کو بلاجواز اور پیپلز پارٹی حکومت کی زیادتی قرار دیا اور سیاسی سطح پر احتجاج بھی کیا۔
اس احتجاج کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈووکیٹ جنرل کے اس اقدام سے اعلان لاتعلقی کیا ہے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ناگواری ظاہر کی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اسے قتل کے بعد کی توبہ سمجھتی ہے۔
اسی لیے کئی دن گذر جانے کےباوجود مسلم لیگ نون کے رہمناؤں کے لہجوں میں تلخی کم نہیں ہو رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون نے وفاقی بجٹ کو عوام سے بھونڈا مذاق، ان کی رگوں سے خون نچوڑنے اور زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ جانے نہیں دے رہی۔ ادھر پیپلز پارٹی کے حامی تجزیہ کار مسلم لیگ نون کو آڑے ہاتھوں لیے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چونکہ شریف بردران پیپلز پارٹی کی قیادت کو قومی مفاہمتی آرڈیننس کا طعنہ دیتے رہے ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسی کوئی دستاویز منظر عام پر آئے جس میں این آر او سے زیادہ خفت آمیز طریقے سے سزاؤں کی معافی کی استدعا کی گئی ہو۔
شریف برداران کے مبینہ دستخطوں والی اس دستاویزات کے متن کےمطابق مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے نہ صرف پرویز مشرف کے دور میں سنائی جانے والی اپنی سزاؤں کی معافی کی درخواست کی تھی بلکہ اپنے دوبھائیوں شہباز شریف، عباس شریف اور بیٹے حسین نواز کی ان سزاؤں کی بھی معافی طلب کی تھی جن کے محض سنائے جانے کا خطرہ تھا۔
دستاویز کے مطابق ان معافیوں کے عوض نواز شریف اور شہباز شریف دس برس تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے اور بیرون ملک رہنے کی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔
سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی دستاویزات شریف بردران کی جانب سے صدرمملکت کے نام سزاؤں کی معافی کی ایک درخواست، دو معاہدوں اور ایک حلف نامہ پر مشتمل ہے لیکن سپریم کورٹ نے انہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معروف کالم نگار نذیر ناجی کا کہنا ہے 'یہ معاہدے زندگی موت کی کشمکش کے دوران مجبوری کے عالم میں ایک آمر کے دور میں ہوئے اور جان بچانے کے لیے کیےجانے والے اس نام نہاد معاہدے کی حثیت کاغذ کے پرزے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'شریف بردران کو اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ٰ
ان دستاویزات کا اس سے پہلے بھی میڈیا پر چرچا ہو چکا ہے لیکن مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے اسے منظر عام پر لانے پر جزبجز ہے کیونکہ مبصرین کے بقول چیف جسٹس افتخار چودھری اور پھر پنجاب حکومت کی بحالی کے بعد سے دونوں پارٹیوں میں خوشگوار مفاہمت کا دور چل رہا تھا۔
سنئیر صحافی اور معروف سیاسی تجزیہ نگار عباس اطہر کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے تعلقات کشیدہ ضرور ہوئے ہیں لیکن چونکہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت کا سپروائزر امریکہ ہے اس لیے فرینڈلی فائر بھی ہوتے رہیں گے اور یہ مفاہمت بھی چلتی رہے گی۔






















