ایک ہی وقت میں کئی محاذ

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان میں طالبان کے خلاف جاری جنگ میں پہلی مرتبہ دیکھا جارہا ہے کہ فوج نے ایک ہی وقت میں کئی محاذ کھول دیے ہیں جس سے بظاہر وزیرستان سے لے کر مالاکنڈ ڈویژن تک سارا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔
اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں افراد پہلے ہی بےگھر ہوچکے ہیں اور ابھی قبائلی علاقوں سے بھی ہزاروں لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
وزیرستان میں تازہ طبل جنگ ایسے وقت بجایا جارہا ہے جب وزیرستان سے سوات تک سارے علاقے میں پاکستان فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک نئی حکمت عملی کے تحت شدت پسندوں کا پیچھا کررہی ہے کیونکہ اس سے قبل پچھلے سات سالوں کے دوران اس جنگ میں شاہد ہی ایسا کوئی ایسا لمحہ آیا ہو کہ جس میں سکیورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر عسکریت پسندوں کے خلاف ایک ہی وقت میں کئی محاذ کھولے ہوں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس نئی حکمت عملی کے تحت شدت پسندوں کو کسی ایک جگہ جمع ہونے کا موقع نہیں مل سکے گا بلکہ اس سے ان کے کمزور ہونے کے امکانات ہیں اور ان کا نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی متاثر ہوگا۔
پہلے ایسا ہوا ہے کہ اگر حکومت شدت پسندوں کے خلاف کسی علاقے میں کارروائیوں میں شدت لاتی تو عسکریت پسند بھاگ کر ان علاقوں کا رخ کرتے جہاں حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ قائم ہوتا تھا اور اس طرح ان کے خلاف مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے۔ لیکن دوسری طرف بعض تجزیہ نگار ان خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ ابھی مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع کلئیر نہیں ہوئے ہیں کہ حکومت نے وزیرستان جیسے ایک مشکل قبائلی علاقے میں آپریشن کا اعلان کیا جہاں اس سے پہلے حکومت کو طالبان کے خلاف مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے، بلکہ ہر بار حکومت امن معاہدہ کر کے وہاں آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرتی رہی ہے۔
اس سے بظاہر حکومت پر دباؤ میں بھی مزید اضافہ ہوگا کیونکہ اس وقت اگر جائزہ لیا جائے تو قبائلی علاقوں سے سوات تک سارا علاقہ جنگ کی لپیٹ میں ہے جہاں فوج کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی شدت پسندوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔
مالاکنڈ ڈویژن کے چار اضلاع سوات، دیر لوئر ، دیر بالا اور بونیر میں گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جس میں اب تک صرف مینگورہ شہر کو مکمل طورپر شدت پسندوں سے صاف کیا جاسکا ہے۔ مینگورہ کو جس رفتار سے شدت پسندوں سے صاف کیا گیا اس طرح تاحال کسی اورعلاقہ کو کلئیر نہیں کیا گیا ہے۔
اس طرح بونیر میں بھی حکومت کے کہنے کے مطابق اسی فیصد علاقہ صاف ہوگیا ہے جبکہ دیر لوئر اور دیر بالا میں بھی کامیابی کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کےلیے ایک بڑا چیلنج مالاکنڈ ڈویژن کے شورش زدہ علاقوں سے بے گھر ہونے والے تقریباً پچیس لاکھ افراد ہیں جن کی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بے گھر افراد اس وقت صوبہ سرحد کے مختلف کیمپوں میں شدید مشکل میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے مسائل ابھی پورے طرح حل بھی نہیں ہو ئے ہیں کہ حکومت نے وزیرستان میں کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
اگرچہ جنوبی وزیرستان سے پہلے ہی ایک اچھی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے ڈیرہ اسمعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت پر منتقل ہوچکے ہیں لیکن جس طرح حکومت نے فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کیا ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ ایک طویل اور بھر پور جنگ ہوسکتی ہے اور ایسے میں اکثریتی آبادی علاقے سے بے گھر ہوسکتی ہے۔
جس طرح حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کےلیے پہلے سے کوئی انتظام نہیں کیا تھا اس طرح وزیرستان سے بے ہونے والے افراد کےلیے بھی تاحال کوئی قابل ذکر انتظام نہیں کیا گیا ہے۔






















