پاکستان پناہ گزین کا سب سے بڑا میزبان

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یعنی (یو این ایچ سی آر) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں پناہ گزین کا سب سے بڑا میزبان ملک بن گیا ہے۔
اس رپورٹ میں دوسرے نمبر پر شام اور تیسرے نمبر پر ایران ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر نے عالمی رجحانات کے عنوان سے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان، پاکستان، سری لنکا اور یمن ایسے ممالک ہیں جہاں دو ہزار آٹھ میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس سے آئی ڈی پیز یعنی اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال کے آخر تک اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چھپن ہزار تھی جو اس وقت بیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ گزشتہ دو سالوں میں دنیا بھر میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد چھبیس ملین سے تجاوز کرگئی ہے۔
نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی اور بہبود کی ذمہ داری کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ اقوام متحدہ نے ایک حکمت عملی کے کلسٹر بنائے ہیں جس میں مختلف تنظیموں اور افراد کو ان کی قابلیت اور مہارت کی بنیاد پر ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار آٹھ کے آخر تک بیس لاکھ پناہ گزین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد گزشتہ سال تک گھر واپس ہونے کے قابل ہوچکے تھے۔ واپس جانے والے افراد میں اس سے پہلے کمی دیکھی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایشیا اور مشرقی ایشیائی ممالک میں پناہ گزین اور پناہ گزینوں جیسے حالات میں رہنے والے لوگوں کی تعداد سنہ دو ہزار کے آخر تک تیس لاکھ سے زیادہ تھی۔ لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں چھ فیصد کمی ہوئی کیونکہ دو لاکھ چوہتر ہزار افغان شہری رضاکارانہ طور پر پاکستان سے اپنے ملک واپس چلے گئے ۔
افغان پناہ گزین دنیا کے انہتر ممالک میں موجود ہیں، ان میں سے چھیانوے فیصد پاکستان اور ایران میں آباد ہیں۔ افغانستان گزشتہ تین دہائیوں سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس کے ساٹھ لاکھ سے زائد شہریوں نے بین الاقوامی پناہ حاصل کی تھی۔دو ہزار آٹھ کے آخر تک ان کی تعداد کم ہوکر تیس لاکھ ہوچکی تھی، یعنی دنیا میں ہر چوتھا پناہ گزین افغانستان سے تعلق رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس عالمی رپورٹ کے مطابق تنازعات یا ظلم و ستم سے جبراً اپنے علاقے چھوڑنے والے افراد کی تعداد چالیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ کل سولہ ملین پناہ گزین اور سیاسی پناہ کے متلاشی اور چھبیس ملین کو اپنے ہی وطن میں اپنے علاقے چھوڑنے پڑے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا میں اسی فیصد پناہ گزین اور آئی ڈی پیز یعنی اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد ترقی پذیر ممالک میں موجود ہیں جس کی بحالی میں اقوام متحدہ کے ادارے مصروف عمل ہیں۔ سال دو ہزار آٹھ تک بے دخل ہونے والوں کی تعداد بیالیس ملین تھی جس میں گزشتہ سال کے مقابلے سات لاکھ کمی ہوئی ہے۔
کولمبیا میں سب سے زیاد لوگوں نے اندرون ملک نقل مکانی کی ہے جبکہ عراق میں ان کی تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے ۔گزشتہ سال کے مقابلے میں ان میں قدر کمی ہوئی ہے، اس کے علاوہ افریقی ممالک کانگو اور صومالیہ میں بھی حالت جنگ کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دو لاکھ سات ہزار لوگوں نے سیاسی پناہ کے لیے رجوع کیا ، جن میں سے اکثر کی منزل جنوبی افریقہ تھی، جس وجہ سے جنوبی افریقہ سیاسی پناہ دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ اور تیسرے نمبر پر فرانس کو درخواستیں موصول ہوئیں۔






















