’نظامِ عدل کے نفاذ تک جنگ‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
سوات کے طالبان نے کہا ہے کہ وہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے ’عملی نفاذ تک‘ حکومت کے خلاف ایک طویل جنگ کریں گے۔
سوات میں طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ سوات طالبان کا ایک اجلاس طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ کی صدارت میں ایک خفیہ مقام پر منعقد ہوا جس میں ان کے بقول تمام کمانڈروں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی فوری رہائی اور مالاکنڈ ڈویژن میں ’عملی طورپر شرعی نظام عدل کے نفاذ‘ کا مطالبہ کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق گوریلا جنگ اس وقت تک لڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب تک پورے مالاکنڈ میں نظام عدل نافذ نہیں ہوجاتا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ حکومت تو پہلے ہی مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل نافذ کرچکی ہے اور عدالتیں بھی قائم کی گئیں تھیں تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف کاغذوں کی حد تک تھا جبکہ عملی طورپر پر کچھ نہیں کیا گیا تھا۔
طالبان کا الزام ہے کہ ٹی این ایس ایم کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو حکومت نے گرفتار کیا ہے جبکہ خود حکومت کئی بار صوفی محمد کی گرفتاری کی تردید کرچکی ہے۔ مولانا صوفی محمد گزشتہ چند ہفتوں سے لاپتہ ہیں۔


















