چونتیس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوٰی

فوج نے پل نمبر دو، کبل اور کوٹلی کے اطراف میں واقع علاقے کلیئر کر دیے ہیں
،تصویر کا کیپشنفوج نے پل نمبر دو، کبل اور کوٹلی کے اطراف میں واقع علاقے کلیئر کر دیے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستانی فوج نے صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں جاری آپریشن میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید چونتیس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعٰوی کیا ہے جبکہ حکام کے مطابق سات شدت پسندوں کوگرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ان کارروائیوں میں پانچ سپاہی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کو فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سوات کے صدر مقام مینگورہ کے اطراف میں سرچ آپریشن کے دوران مدرسے کے مہتمم فیض سمیت پانچ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پل نمبر دو، کبل اور کوٹلی کے اطراف میں واقع علاقے کلیئر کر دیے ہیں اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں بارہ شدت پسند مارے گئے جبکہ پانچ سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ توتانوبانڈئی اور شموزئی کے مقامات پر بھی کارروائیوں میں سولہ شدت پسندوں کے مارے جانے کا دعوٰی کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع دیر میں سیوا کے علاقے میں دو مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیربالا کے علاقے نمازگئی میں فائرنگ کے تبادلے میں چھ مزید شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج نے مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرین میں چار ہزار سے زائد ٹن راشن اور دیگر امدادی اشیاء تقسیم کی ہے۔

ادھر مینگورہ شہر اور بالائی سوات کے علاقوں میں بدستور ٹیلی فون اور موبائل سروس معطل ہے جس کی وجہ سے آزاد ذرائع سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔