طیارہ سازش کیس کا فیصلہ محفوظ

نواز شریف
،تصویر کا کیپشنسندھ ہائی کورٹ نے طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کو عمر قید اور جُرمانے کی سزا سُنائی تھی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ نے طیارہ سازش کیس میں ملنے والی سزا کے خلاف میاں نواز شریف کی نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نظر ثانی کی درخواست کی سماعت شروع کی تو سندھ کے پراسکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 12 اکتوبر سنہ 1999 میں طیارے کے اغوا کا واقعہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اور اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے درمیان احتیارات کی جنگ کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے جب طیارے کا رُخ موڑنے کے احکامات جاری کیے تھے تو جُرم اُسی وقت سرزد ہوگیا تھا جس پر بینچ میں شامل جسٹس شیخ حاکم نے سندھ کے پراسکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ جب وزیر اعظم کے پاس اختیار ہے کہ وہ طیارے کا رُخ موڑنے کے مجاز ہیں تو پھر کیا اختیارات کا استعمال جرم سرزد ہونے کے زُمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں استغاثہ کہیں بھی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ کسی بھی وقت طیارے کا کنٹرول نواز شریف کے پاس تھا۔ شیخ حاکم نے کہا کہ اُس وقت کے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل چوہدری امین اللہ نے اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے کہا تھا کہ وہ یہ غیر قانونی اقدام کر رہے ہیں۔

سندھ کے پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ اُس وقت کے سول ایوایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل چوہدری امین اللہ اور وزیر اعظم ہاؤس کے ٹیلی فون آپریٹر کے بیانات ملتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف نے طیارے کا رُخ موڑنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق سربراہ جنہیں حراست میں لیا گیا اور بعدازاں وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے، ان کا کبھی دوبارہ طبی معائنہ کروایا گیا جس کے احکامات اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے دیئے تھے۔

بینچ کے سربراہ نے سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ایئر ٹریفک کنٹرول کے حکام اور اُس طیارے کے پائلٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو عدالت میں پیش کیا گیا جس میں پائلٹ نے کہا ہو کہ اُس کا طیارہ ہائی جیک کرلیا گیا ہے جس پر پراسیکیوٹر جنرل نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

شہادت حسین نے کہا کہ طیارہ ڈیڑھ گھنٹہ تک ہوا میں معلق رہا جس کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کے علاوہ اُس وقت طیارے میں سوار ایک سو ترانونے مسافروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

بینچ میں شامل جسٹس ناصرالملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران کسی بھی مسافر کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو اُس طیارے میں سوار تھا جس کو بقول استغاثہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ اگر میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم طیارے کا رُخ موڑنے کے احکامات دیے تھے تو کونسا وہ طیارہ مستقل طور پر مسقط چلاجانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کے گواہوں کے بیانات سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کراچی ائرپورٹ بند کرنے اور رن وے کی لائٹیں بند کرنے کے احکامات نواز شریف نے دیے تھے۔

سندھ کے پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ 12 اکتوبر 1999 کوفوج سے تعلق رکھنے والے چند افراد اگر وزیر اعظم ہاؤس یا سرکاری ٹیلی وژن کی عمارت کے باہر جمع ہوگئے تھے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ ملک میں مارشل لاء لگ گیا ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ یہ فوجی اہلکار ایک کمانڈ کے نیچے اور احکامات کی روشنی میں ان مقامات پر گئے تھے۔

سندھ کے پراسکیوٹر جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طیارے کے اغوا کے مقدمے میں کسی ایک شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی ۔

انہوں نے کہا کہ اس میں اُن افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے تھی جنہوں نے میاں نواز شریف کے احکامات مانے تھے۔ ان میں سول ایوی ایشن کے اعلٰی حکام بھی شامل ہیں جن میں ندیم اکبر، عقیل احمد جنرل منیجر ائرٹریفک کنٹرول،محمد امین، کنٹرولر ائیر ٹریفک اور سید یوسف عباس ، چیف آپریٹنگ افسر کے علاوہ دیگر افراد بھی شامل ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سُننے کے بعد نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے طیارہ اغوا کرنے کی سازش میں پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کو عمر قید اور جُرمانے کی سزا سُنائی تھی بعدازاں اُس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے میاں نواز شریف کو اس مقدمے میں دی جانے والی سزا کو معاف کردیا تھا۔