بجلی بحال، لوڈ شیڈنگ جاری

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام میں پیدا ہونے والی بڑی خرابیوں کو دور کرکے بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کے ای ایس سی کی ترجمان عائشہ اعرابی نے دعویٰ کیا کہ واپڈا سے بجلی کی سپلائی بحال ہونے کے بعد جمعرات کی شام ہی کے ای ایس سی نے شہر میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال کردی تھی تاہم کئی علاقوں میں بجلی کی تقسیم کے نظام میں فنی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں جنہیں دور کرنے میں وقت لگا۔
ان کے بقول اب بھی بعض جگہوں پر فنی خرابیوں کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں خلل پڑ رہا ہے لیکن انہیں دور کرنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔
شہر کے زیادہ تر حصوں میں ہر دو سے تین گھنٹوں بعد ایک ایک گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے تاہم عائشہ اعرابی نے دعویٰ کیا کہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں اس وقت بجلی کی یومیہ طلب 2300 میگاواٹ ہے جبکہ کے ای ایس سی کو چالیس سے پچاس میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے گلشن اقبال، سوک سینٹر، لائنز ایریا اور بعض دوسرے علاقوں میں بجلی کی سپلائی متاثر ہورہی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کے ای ایس سی آئندہ اس طرح کے بریک ڈاؤن کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کررہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بریک ڈاؤن معمول کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک قدرتی سانحہ تھا مگر کے ای ایس سی کے انجینئرز اس کی وجوہات پر غور کررہے ہیں تاکہ اس سے آئندہ کے لئے سبق حاصل کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ بدھ کی شام ساڑھے چھے بجے اندرون سندھ تیز آندھی کے بعد واپڈا سے کے ای ایس سی کو بجلی فراہم کرنے والی ٹرانسمیشن لائن میں خرابی پیدا ہوگئی تھی جس کے بعد کراچی کے تمام بجلی گھر اور گرڈ اسٹیشنوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور پورے شہر کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی اور کے ای ایس سی چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی بجلی کی فراہمی پوری طرح بحال کرنے میں ناکام رہی تھی۔
مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کے ای ایس سی کو اس کی یومیہ طلب یعنی 2400 میگاواٹ کے مقابلے صرف پچیس فیصد (600 میگاواٹ) بجلی فراہم کرتا ہے تو پھر واپڈا سے سپلائی معطل ہونے کے بعد کے ای ایس سی اپنے پیداواری نظام سے شہر کو جزوی طور پر ہی صحیح بجلی کی فراہمی جاری رکھنے میں ناکام کیوں رہا۔ کے ای ایس سی کے حکام اس سوال کا اب تک کوئی واضح جواب نہیں دے پائے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کے ای ایس سی دو ہزار پانچ تک وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرتا تھا تاہم نومبر 2005ء میں اسے نجی شعبے کی تحویل میں دیدیا گیا جس کا مقصد اسکے انتظام کو بہتر بنانا اور غیرملکی سرمایہ کاری کے ذریعے اسکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا بتایا گیا تھا۔
تاہم بجلی کے حالیہ بریک ڈاؤن کے بعد اسے دوبارہ سرکاری تحویل میں لینے کے مطالبے میں شدت آگئی ہے۔ پہلے یہ مطالبہ شہر کے کاروباری حلقوں کی جانب سے کیا جاتا تھا لیکن اب حکمران جماعتوں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومینٹ کے ارکان بھی یہ مطالبہ کررہے ہیں۔






















