وزیرستان:’فوج کی پیش قدمی اور بمباری‘

طالبان کے کئی مشکوک ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنطالبان کے کئی مشکوک ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں ٹینکوں اور توپخانے کی مدد سے وانا کی جانب سے محسود قبائل کے علاقے مدیجان پہنچ گئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مُبینہ ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی بھی اطلاعات ہیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے چگملائی اور سپنکئی راغزئی کے بعد سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکار ٹینکوں اور توپخانے کی مدد سے جمعہ کو وانا سے مدیجان پہنچ گئے ہیں۔حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار مدیجان کے پہاڑی سلسلوں میں اپنے لیے نئے مورچے کھود رہے ہیں اور کئی اہم مقامات پر توپیں نصب کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح محسود قبائل کے تین مختلف علاقوں میں طالبان کے کئی مشکوک ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی ہے۔ جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کونڈ سرئی، وڑہ اور بروند کے علاقے شامل ہیں لیکن اس کارروائی میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بمباری کی اطلاع ہے لیکن تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محسود قبائل کے علاقے میں اس وقت مقامی انتظامیہ کا کوئی اہلکار موجود نہیں ہے اور محرر سے لے کر پولیٹکل ایجنٹ تک سب کے سب ضلع ٹانک میں موجود ہیں۔

اگر جنوبی وزیرستان کو دو حصوں میں تقسیم کیاجائے تو شمال مشرق میں محسود قبائل اور جنوب مغرب میں وزیر قبائل آباد ہیں۔محسود قبائل کے علاقے میں جنوب مغرب کی جانب سے داخل ہونے پر راستے میں مدیجان اور تیارزہ کے علاقے آتے ہیں جبکہ مشرق سے چگملائی اور سپنکئی راغزئی کے علاقے شامل ہیں۔ اسی طرح شمال کی طرف سے داخل ہونے والے راستے میں پہلا مقام مکین ہے جو طالبان کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔