کلیئر سے کیا مراد ہے ؟

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
جن ماہرین نے چھاپہ مار جنگ کی نفسیات اور طریقے سمجھنے میں عمریں لگا دیں ان میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ چھاپہ مار جنگ سے متاثرہ کسی بھی علاقے کو اس وقت تک عام لوگوں کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک یہ اطمینان نہ ہوجائے کہ چھاپہ ماروں کو وسیع تر عوامی حمایت سے محروم کردیا گیا ہے۔
ان کو تربیت، اسلحہ اور دیگر رسد فراہم کرنے والے راستوں کو بند کردیا گیا ہے اور ان کی مرکزی قیادت کوعسکری لحاظ سے اتنا اپاہج ضرور کردیا گیا ہے کہ وہ کم ازکم اس وقت تک سر نہ اٹھا سکے جب تک متاثرہ علاقے میں مقامی انتظامی ڈھانچہ ان کا موثر مقابلہ یا سدِباب کرنے کے قابل نہیں ہوجاتا۔ ان شرائط کی تکمیل کے بغیر کسی چھاپہ مار تحریک کے خلاف فتح کا طبل بجانا خود کو دھوکا دینا ہے۔
شاید اسی لیے سری لنکا کی حکومت نےتامل علاقے کو کلیئر قرار دینے کے لیے پچیس برس اس لمحے کا انتظار کیا جب تک پربھاکرن کی لاش ٹی وی سکرین پر نہیں آگئی۔ یا پیرو کی حکومت نے بیس برس تک یہ نہیں کہا کہ ملک بائیں بازو کے گوریلوں سے کلیئر ہوچکا ہے جب تک ان کے لیڈر ابی میل گوزمان کو پنجرے میں بند کرکے عدالت کے سامنے پیش نہیں کردیا گیا۔
اس تناظر میں یہ بات بہت دلچسپ لگتی ہے کہ پاکستانی وزیرِ دفاع احمد مختار نے سوات کے پناہ گزینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں میں واپس جاسکتے ہیں جو فوج نے طالبان سے کلیئر کروا لیے ہیں۔ تاکہ دیگر پناہ گزین بھی اعتماد کے ساتھ واپسی کے بارے میں سوچ سکیں۔
لیکن یہ بات اب تک کلئیر نہیں ہے کہ لفظ کلئیر سے آخر مراد کیا ہے ؟
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاص علاقے میں طالبان چھاپہ ماروں کا جسمانی صفایا کردیا گیا ہے۔ یا کلیئر کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے سے طالبان کہیں اور چلے گئے ہیں۔اور جو علاقے کلیئر ہوگئے ہیں ان میں طالبان دوبارہ داخل ہونے کی جرات نہیں کریں گے۔
اب تک یہ معمہ بھی حل طلب ہے کہ طالبان کی قیادت کہاں ہے اور جو طالبان مرگئے ہیں ان کی لاشیں اور اسلحہ کیسے اور کہاں کلیئر ہوگیا۔
ان علاقوں کے بارے میں کیا وضاحت ہے جو چند روز پہلے کلیئر قرار دیے گئے اور اس کے بعد وہاں سکیورٹی فورسز اور املاک کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چلیے مان لیا کہ کچھ علاقے کلیئر ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ تو بتا دیجیے کہ کیا ان کلیئر علاقوں میں سول انتظامیہ اور ان کی مدد کے لیے پولیس اور ایف سی بھی پوری طرح اتنی فعال ہوچکی ہے کہ آئندہ یہاں سے نقلِ مکانی نہیں ہوگی۔
کیا یہ ممکن ہے کہ جو علاقے کلیئر قرار دیے جارہے ہیں وہاں اعتماد سازی کے لیےصوبہ سرحد کے گورنر، وزیرِ اعلی، علاقے کے ارکانِ اسمبلی اور خود وزیرِ دفاع احمد مختار علامتی طور پر کچھ عرصے کے لیے جا کر رہیں۔ عوام میں گھلیں ملیں اور واپس آنے والوں کا خیرمقدم کریں۔اور میڈیا کو بھی اجازت دے دیں کہ وہ کلیئر ہونے والے علاقوں میں آزادی سے گھوم پھر کر حالات کی کلیئرتصویر کشی کرسکے۔
یہ صرف عام آدمی ہی کی کیوں ذمہ داری ہے کہ ہر مرتبہ اجڑے بھی وہی اور پھر خود پر اعتماد بھی خود ہی بحال کرے !!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






















