مالاکنڈ:سات شدت پسند ہلاک

سوات
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے وادی پیوچارکے قریب واقع علاقوں کو کلیئر کردیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں مزید سات شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سولہ کوگرفتار کرلیا گیا۔ لڑائی میں پانچ سپاہی بھی زخمی ہوئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سوات کے علاقے لانگر اور خوازہ خیلہ میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک شدت پسند ہلاک جبکہ چھ کو گرفتار کرلیا گیا۔ کارروائی میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی بھاری مقدار میں قبضے میں لے لیا گیا۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اخون کلی ددرن میں ایک چیک پوسٹ قائم کر دی ہے اور اس دوران شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے پانچ سپاہی زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے وادی پیوچارکے قریب واقع علاقوں خارکئی، خارکارائی اور بیہہ کو کلیئر کردیا ہے اور اس دوران جھڑپوں میں چھ شدت پسند مارے گئے جبکہ اسلحہ اور گولہ باردو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

سکیورٹی فورسز نے بے گھر ہونے والے افراد کےلیے بشام کے مقام پر ایک پناہ گزین کیمپ قائم کردیا ہے۔ اب تک بالائی سوات کے علاقے کالام کے تین ہزار بے گھر افراد کو واپس اپنے گھروں کو بھیجا جاچکا ہے۔اس کے علاوہ بے گھر ہونے والے افراد میں مزید امدادی اشیاء اور راشن بھی تقسیم کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈگر گرڈ اسٹیشن تک بجلی کی مرکزی سپلائی لائن بحال کردی گئی ہے جبکہ مینگورہ شہر اور اطراف کے علاقوں میں گیس کی سپلائی بھی بحال کردی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں نے تنئی اور سروکئی کے درمیان سڑک بند کردی ہے جسےکھولنے کےلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کردیا ہے۔