’بھٹو قتل کیس جلد ہی کھولیں گے‘

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشنمیں سمجھتا ہوں کہ ذوالفقار بھٹو کا جوڈیشل مرڈر تھا اور میں یہ کیس ری اوپن کروں گا: وزیر اعظم
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی عدالتی قتل تھا اور وہ بہت جلد اُسے دوبارہ کھولیں گے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو انٹرنیشنل نتھیا گلی سمر کالج کی چونتیسویں تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم نے کہا ’میں جب جیل میں تھا تو وہاں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی کتاب کا مطالعہ کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان پر بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کے لیے بڑا سخت دباؤ تھا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ جوڈیشل مرڈر تھا اور میں یہ کیس ری اوپن کروں گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ مالاکنڈ آپریشن میں طالبان شدت پسندوں کی قیادت کی گرفتاری یا قتل کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے تو انہوں نے کہا کہ طالبان کی دوسری اور تیسری سطح کی قیادت ماری گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک طالبان کی صفِ اول کی قیادت کا تعلق ہے تو وہ بھی کئی روز سے خاموش ہے اور جلد پتہ لگ جائے گا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا کام ہو رہا ہے تاکہ بے گھر لوگوں کو اپنے گھروں میں بسایا جائے۔

’ہماری حکومت نے رلیف کا کام پورا کیا ہے اور اب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کا کام باقی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک متاثرہ افراد کے دل نہیں جیتیں گے انہیں مطمئن نہیں کریں گے اس وقت تک یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ سکول، ہسپتال، بینک اور دیگر ادارے جو تباہ ہوئے ہیں انہیں دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔‘

جوہری پروگرام کو منجمند کرنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنے جوہری پروگرام کو منجمند کردیں۔