پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات

دنیا بھر کے 51ممالک کی جیلوں میں تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی قید ہیں جن میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشندنیا بھر کے 51ممالک کی جیلوں میں تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی قید ہیں جن میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

حکومت نے پاکستانی سفارت خانوں اور ہائی کمیشن کومختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کے اعدادوشمار اکھٹے کرنے کے علاوہ اُن کی رہائی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم ایسے قیدی جو دہشت گردی یا منشیات کی سمگلنگ میں قصوروار ٹھہرائے گئے ہیں اُن کے متعلق کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ضمن میں جوائنٹ سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی دنیا کی مختلف جیلوں میں قید اُن تمام پاکستانیوں کے کوائف اکھٹے کرنے کے علاوہ اُن کے خلاف درج کیے گئے مقدمات کا جائزہ لے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی ان مقدمات کا جائزہ لینے کے بعداس پرقانونی ماہرین سے رابطہ کرنے کے بعد اُن سے رائے لی جائے گیجس کے بعد مختلف ممالک میں سفارت خانوں کے متعلقہ حکام کوان افراد کے مقدمات کی پیروی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے کہ دنیا کی مختلف جیلوں میں قید پاکستانیوں کے بارے میں معلومات وہاں پر موجود پاکستانی سفارت خانے کے عملے کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی پاکستانی معمولی جرائم میں قید ہواور وہ کونسل کی خدمات چاہتا ہو تو پھر سفارتخانے کے اہلکار وہیں پرکسی وکیل کی خدمات حاصل کرکے اُن کی رہائی کےاقدامات کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی پاکستانی منشیات، قتل اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہو ایسے افراد کو قانونی امداد دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ زیاہ ممالک میں ان جرائم کی سزا موت ہے۔‘

قیدیوں کے حالت زار کے بارے میں کام کرنے والی تنظیم گلوبل فاؤنڈیشن کےمطابق دنیا بھر کے اکیاون ممالک کی جیلوں میں7934 پاکستانی قیدی موجود ہیں جن میں درجنوں خواتین بھی پابند سلاسل ہیں۔ تنظیم کےاعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ تعداد سعودی جیلوں میں ہے جن کی تعداد 5237ہے دوسرے نمبر پر بھارت کی 31جیلوں میں472قیدی موجود ہیں جبکہ ماہی گیروں کی کثیر تعداد اس کے علاوہ ہے۔

تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق صرف فیروز پور جیل میں35 پاکستانی سزائیں پوری کر لینے کے باوجوداذیت ناک حالات میں قید کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ کی دو جیلوں لارڈ یاؤ اور بنک کوانگ میں قید ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق سربیا میں4، یو کرائن میں13، قازقستان میں16، آذربائیجان میں10، ماریشس میں 2، انڈونیشیا میں11، آسٹریلیا میں19، کویت میں289، آسٹریا میں9، بنگلہ دیش10، چین 13، اردن4، ہانگ کانگ97، عرب امارات287، سری لنکا42،جاپان56، یونان67، ملائشیا 87، فرانس23، جرمنی84، برطانیہ 416، افغانستان428، قطر102اور مصرمیں 42 پاکستانی مختلف جیلوں میں قید کاٹ رہے ہیں۔ مذکورہ غیرسرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ اب تک ان غیر ملکی جیلوں میں پانچ پاکستانی خودکشی کرچکے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے ورثاء نے اُن کے عزیزوں کی حالت زار اور وہاں پر متعین پاکستانی سفارتکاروں کے رویے کی شکایت کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس ایسے پاکستانیوں کے کیسز بھی آئے ہیں جو جعلی کاغذات پر مختلف ملکوں میں گئے تھے تاہم وہ وہاں پر پکڑے گئے اور اُنہیں کونسل تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے وہ گذشتہ کئی سالوں سے جیلوں میں قید ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جوغیرقانونی طور پران ملکوں میں داخل ہوئے۔ ان ملکوں میں پاکستانی سفارتخانوں کا عملہ ایسے افراد کے انٹرویو کرنے کے بعد اُنہیں ڈی پورٹ کرنے کے بارے میں اقدامات کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دنیا کی مختلف جیلوں میں قید پاکستانیوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کے سلسلے میں جو بھی اخراجات اُٹھتے ہیں اُن کو پاکستانی سفارتخانہ برداشت کرتا ہے۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں گرفتار ہونے والے نوپاکستانیوں کو قانونی امداد فراہم کی جارہی ہے جس کے تمام اخراجات پاکستانی ہائی کمیشن برداشت کررہا ہے۔

واضح رہے کہ ان افراد میں سے ایک پاکستانی طالبعلم چند روز پہلے وطن واپس لوٹا ہے۔