جنوبی وزیرستان: ڈرون حملے میں چالیس ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک دن میں دوسرے حملےمیں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے۔
جنوبی وزیرستان میں پولٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح لدھا میں بیت اللہ محسود کے ایک ٹھکانے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہونےوالے افراد کی نماز جنازہ پر ایک اور حملہ ہوا اور اس دوسرے حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کچھ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملے میں ایک افغان کمانڈر سنگین خان بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود گروپ کے طالبان کے ایک ٹھکانے پر مبینہ امریکی جاسوس طیارے پر حملے میں کم از کم تین جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔
پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح جنوبی وزیرستان کے لدھا سب ڈویژن کے ایک دور افتادہ علاقے زنگڑہ میں پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ امریکی جاسوس طیارے سے بیت اللہ گروپ کے طالبان کے ایک ٹھکانے پر تین میزائل داغے گئے جس سے وہاں موجود دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں جنگجو مقامی بتائے جاتے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد طالبان نے سارے علاقے کو گھیرے میں لےکر لاشوں کو ملبے سے نکالا اور انہیں کسی نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔
بعض ذرائع ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد دو سے زیادہ بتا رہے ہیں تاہم سرکاری طور پر اب تک صرف دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب فوج نے پچھلے چند دنوں سے جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف ’ آپریشن راہ نجات‘ شروع کر رکھا ہے۔ اس آپریشن کو شروع ہوئے ایک ہفتہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک بیت اللہ محسود کے خلاف کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان پر امریکی جاسوس طیاروں سے میزائل حملے ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں غیر ملکی، مقامی طالبان اور پنجابی طالبان کے علاوہ عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔






















