مالاکنڈ: تین شدت پسند گرفتار

 بریفنگ میں پہلی مرتبہ صحافیوں کو ہلاک ہونے والے چند شدت پسندوں کی تصویریں اور وڈیوز بھی دکھائے گئے
،تصویر کا کیپشن بریفنگ میں پہلی مرتبہ صحافیوں کو ہلاک ہونے والے چند شدت پسندوں کی تصویریں اور وڈیوز بھی دکھائے گئے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران تین شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ پانچ سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سکیورٹی فورسز کی کاروائیاں آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سوات کے علاقوں پرارئی، شموزئی، رنگیلا، بنجوٹ اور سمبٹ میں سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا جبکہ بیہہ اور رورنگر کے مقامات پر اپنی پوزشنیں مزید مستحکم کی ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے الپوری سے تین کلومیٹر دور مانگئی کے علاقے میں تین شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہےجبکہ ان کے قبضہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے پینتالیس ہزار (45000) افراد کا اندراج ٹانک اور ڈیرہ اسمعیل خان میں کیا گیا ہے۔ ان پناہ گزینوں کو میزبان خاندانوں کے ساتھ رکھا گیا ہے جہاں ہر خاندان کو حکومت کی جانب سے ماہوار پانچ ہزار روپے یو بی ایل کارڈ جاری کیے جارہے ہیں۔

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بھی ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز مالاکنڈ کے متاثرین میں ساڑھے تین ہزار کیش کارڈز تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرین میں سات سو چوالیس ٹن راشن بھی تقسیم کیا گیا۔