سبسڈی ختم کرنے پر واک آؤٹ

سبسڈی کے خاتمے سے جہاں گھریلو صارفین کے ساتھ صنعتی پیداوار بھی سخت متاثر ہوگی
،تصویر کا کیپشنسبسڈی کے خاتمے سے جہاں گھریلو صارفین کے ساتھ صنعتی پیداوار بھی سخت متاثر ہوگی
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ بجٹ میں بجلی اور گیس پر دی جانے والی سبسڈی ختم کیے جانے کے خلاف منگل کو حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔

حکومت نے ایوان سے جب مختلف وزارتوں کے لیے مختص بجٹ کے بارے میں مطالبات زر منظوری کے لیے پیش کیے تو ایک موقع پر مسلم لیگ (ق) کے رکن ریاض پیرزادہ نے کہا کہ حکومت نے بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرنے کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا اس لیے وہ ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔

اس دوران حزب مخالف کی ایک اور بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے بھی کہا کہ بجلی پر سبسڈی ختم کیے جانے سے عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا ہوگا اس لیے وہ بھی ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔ جس کے بعد حکومتی اراکین انہیں منا کر ایوان میں واپس لائے۔

واک آؤٹ کے دوران حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا۔ تاہم بعد میں ان کے ایک رکن عبدالقادر خانزادہ نے کہا کہ بجلی پر سبسڈی ختم ہونے سے ملک میں مہنگائی بڑھے گی اور عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ ان کے مطابق حکومت نے سبسڈی کے معاملے پر انہیں کہا تھا کہ ان کے خدشات دور کیے جائیں گے لیکن تاحال صورتحال واضح نہیں۔

بجٹ پر کئی روز سے قومی اسمبلی میں جاری بحث کے دوران حزب مخالف کے بیشتر اراکین اپنی تقریروں میں بجلی پر سبسڈی بحال کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، لیکن جب بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی تو منگل کو حزب مخالف نے ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔

حزب مخالف کے اراکین نے بحث کے دوران کہا کہ بجلی پر سبسڈی ختم کیے جانے سے جہاں گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہوں گے وہاں صنعتی پیداوار بھی سخت متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق پہلے ہی بجلی کے نرخوں میں اضافے اور بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملکی صنعت تباہ ہوچکی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے تحت بجلی پر سبسڈی نہیں دے سکتے۔ بجٹ میں دیے گئے اعداد وشمار کے مطابق حکومت نے تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال برائے دو ہزار آٹھ اور نو کے دوران دو کھرب پچانوے ارب بیس کروڑ چالیس لاکھ روپے سبسڈی کے لیے مختص کیے لیکن بعد میں مالی بحران کی وجہ سے حکومت نے اس میں تینتالیس ارب انیس کروڑ دس لاکھ روپے کی کٹوتی کر دی۔

یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں حکومت نے ایک کھرب اکتیس ارب اکیانوے کروڑ پچاس لاکھ روپے سبسڈی کے لیے مختص کیے ہیں۔ حکومت نے نئے سال کے بجٹ میں کھاد پر سبسڈی ختم کردی ہے لیکن بینظیر ٹریکٹر سپورٹ پروگرام کے لیے دو ارب روپے مختص کیے ہیں۔

تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کی نسبت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں حکومت نے بجلی فراہم کرنے والے ادارے واپڈا کو ملنے والی سبسڈی میں تقریباً تیس ارب روپے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو ملنے والی سبسڈی میں پندرہ ارب روپے کی کمی کر دی ہے۔

حکومت نے گندم اور چینی کی درآمدگی اور کپاس کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن کی سبسڈی میں ساڑھے تین ارب روپوں کا اضافہ کرتے ہوئے تیس ارب روپے کر دی ہے۔ جب کہ عوام کو سستی اشیا خوردونوش فراہم کرنے والے ادارے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو ملنے والی سبسڈی میں بھی اضافہ کرتے ہوئے چار ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔