زلزلے کے چار برس بعد لاش برآمد

 اس زلزلے میں سّتر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشن اس زلزلے میں سّتر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
  • وقت اشاعت

آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں آنے والے زلزلے کے دوران لاپتہ ہونے والے ایک مزدور کی لاش تین سال آٹھ ماہ بعد بدھ کے روزمظفرآباد کے قریب کھدائی کے دوران برآمد ہوئی ہے۔

پچاس سالہ محمد نظیر کی لاش مظفرآباد کے نواح میں دریائے نیلم کے کنارے ماکڑی کے مقام سے برآمد ہوئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ لاش قابلِ شناخت حالت میں نہیں تھی لیکن متوفی کے عزیزوں نے کلائی گھڑی اورشناختی کارڈ کے ذریعے لاش کو پہچان لیا۔

پچاس سالہ محمد نظیر کا تعلق مظفرآباد کے نواح میں واقعہ رنجاٹہ گاؤں سے تھا اور وہ پیشے سے مزدور تھے اور وہ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے ماکڑی کے مقام پر پہاڑ اور مٹی کے تودے کی زد میں آگئے تھے۔

ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہانہوں نے زلزلے کے ابتدائی دنوں میںلاش نکالنے کی کوشش کی لیکن مشینری نہ ہونے کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا جس پر مایوس ہوکر تلاش ترک کر دی گئی۔

واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے میں محمد نظیر کا ایک بیٹا بھی ہلاک ہوا تھا۔ پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں آنے والے اس زلزلے میں سّتر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔