وزیرستان سے مصدقہ اطلاعات کا فقدان

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں امریکی حملوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں آج دوسرے روز بھی بے یقینی کی صورتحال ہے جہاں سرکاری سطح پر کوئی تصدیق شدہ اطلاعات سامنے نہیں آ رہی ہیں۔
منگل کے روز کیے گئے حملوں میں کن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، کتنے لوگ ہلاک ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں کون لوگ شامل ہیں اس بارے میں مقامی انتظامیہ سے لے کر فوجی حکام تک کوئی بھی کوئی واضح صورتحال بتانے سے قاصر ہے۔
جنوبی وزیرستان میں ان دنوں آپریشن راہ نجات اور سوات میں فوجی آپریشن راہ راست جاری ہے۔ سوات کے حوالے سے فوجی دعوؤں کی بھر مار ہے تو دوسری جانب وزیرستان سے اطلاعات کا فقدان ہے۔
وزیرستان کے علاقے مکین میں امریکی ڈرونز کی کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پاکستان فوج نہیں ہے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ کا کوئی اہلکار اس علاقے میں ہے جو بتا سکے کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بڑی تعداد میں مقامی لوگ اس علاقے سے جا چکے ہیں اور اب وہاں طالبان ہی پائے جاتے ہیں۔
میڈیا نے اپنے اپنے ذرائع سے اور مقامی لوگوں سے رابطے کیے ہیں اور جس کسی نے جو اطلاع فراہم کی ہے اسی کی بنیاد پر ہلاکتوں کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہی سامنے آ رہی ہیں۔
اخبارات میں کہیں ساٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے تو کسی اخبار نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو تک بتائی ہے۔ طالبان کے ایک رہنما مولانا نور سعید نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملے میں تینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں صرف پانچ طالبان ہیں اور باقی مقامی شہری۔ مقامی انتظامیہ نے پچاس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن یہ اطلاع بھی مقامی لوگوں کے توسط سے ہی پہنچ پائی ہے۔
مقامی سطح پر انتظامیہ اور انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ انھیں بھی اب تک کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے اور وہ مقامی لوگوں سے سنی ہوئی اطلاعات پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔ انتظامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب تک تصدیق شدہ جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق تحصیل مکین کے علاقے سپینہ میلہ میں گاؤں پٹونڑے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور ضلع لدھا کی تحصیل مکین اور سراروغہ سمیت دیگر قریبی علاقے اس وقت طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ گاؤں پٹونڑے میں کل یعنی منگل کی صبح مبینہ طور پر امریکی ڈرونز سے حملہ کیا ہے جس میں کچھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد شام کے وقت جب ہلاک شدگان کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی تو اس وقت دوسرا حملہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















