’زرعی پانی کی کٹوتی قبول نہیں‘

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پنجاب کے زرعی پانی کی مقدار کم کرنے کی اطلاع پر مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ قاف کے اراکین پنجاب اسمبلی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران رکن اسمبلی شیر علی نےاخبارات میں چھپنے والی اس خبر پر کہ پنجاب کی تین بڑی نہروں تونسہ، پجند اور جہلم لنک کینال کا پانی کم کر کے صوبہ سندھ کی پانی کی قلت دور کی جائے گی اس پر ایک تحریک التواء پیش کی جس پر اجلاس میں گرما گرم بحث چھڑ گئی۔
حزب اختلاف کے رہنماء چوہدری ظہیرالدین نے کہا کہ اگر سندھ کو پانی کی ضرورت ہے تو انہیں ملنا چاہیے کیونکہ وہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ لیکن اگر اس سے پنجاب کے کسانوں کا حق مارا جائے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان نے پنجاب کے پچیس ہزار کیوسک پانی سندھ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے پنجاب کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایوان میں قرار داد لائی جائے۔
وزیر اعلٰی پنجاب کے سینئیر مشیر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے اسمبلی کو کہا کہ یہ نامناسب ہے کہ ایک شخص صوبوں میں پانی کی تقسیم کا فیصلہ کرے۔ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں لے جایا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب کا پانی کسی کو نہیں دیا جا رہا اور پیپلز پارٹی چاروں صوبوں کی نمائندہ جماعت ہے اور کسی صوبے کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال نے کہا کہ پنجاب کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور پنجاب کے حقوق کا تحفظ کرنا اس ایوان کی ذمہ داری ہے۔
سپیکر کے ریمارکس پر سینئیر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ سپیکر کے یہ الفاظ مناسب نہیں اور یہ الفاظ انہیں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے وقار اور عزت پر ایسی کئی وزارتیں قربان کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راجہ ریاض نے کہا کہ ان کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ پنجاب کا ایک فیصد پانی بھی کسی دوسرے صوبےکو نہیں دیا جائے گا اور کسی قرار داد کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کا پانی دیا گیا تو وہ استعفٰی دے دیں گے۔
پنجاب اسمبلی میں پانی کے مسئلے پر ہونے والی گرما گرمی کی اطلاع جب وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو پہنچی جوکہ اسمبلی کے پاس ہی ایوان وزیر اعلٰی میں موجود تھے تو انہوں نے سینئیر وزیر ذوالفقار کھوسہ کے ذریعے ایوان میں یہ پیغام پہنچایا کہ پنجاب کا پانی کم کرنے کی خبروں پر مسلم لیگ ن کی حکومت کو تشویش ہے اور اس کے لیے جمعرات کی شام ایک اجلاس بلایا جائے گا۔ جس میں اراکین اسمبلی کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے حکام کی شرکت بھی متوقع ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ کا کہنا تھا کہ ان کی صدر زرداری سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اس سلسلے میں اقدام لیا گیا وہ ارسا اور واڈا کی تجاویز پر اور انہیں اعتماد میں لے کر لیا گیا ہے۔ کسی کی حق تلفی نہیں کی جا رہی اور قوائد کے مطابق پانی کی تقسیم کی جا رہی ہے ۔






















