بارودی سرنگ دھماکہ، تین اہلکار ہلاک

دھماکے میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ جبکہ تین کو جزوی نقصان پہنچا ہے
،تصویر کا کیپشندھماکے میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ جبکہ تین کو جزوی نقصان پہنچا ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار ہلاک جبکہ اٹھارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق جمعہ کو صبح آٹھ بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے بنوں جانے والے سکیورٹی فورسز کے قافلے میں شامل ایک گاڑی چشمہ پُل کے مقام پر ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں ٹوچی سکاؤٹس فورس کے تین اہلکار ہلاک جبکہ اٹھارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ جبکہ تین کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ان دھماکوں میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی بھی کی جس میں میرانشاہ اور تحصیل میرعلی میں کئی مشکوک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ مقامی لوگوں کے مطابق جوابی کارروائی سے چشمہ پُل کے قریب آبادی میں ایک شہری ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

میرانشاہ سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق ان تازہ حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے میر علی میرانشاہ اور بنوں میرعلی شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں ملا نذیر اور حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں کے بعد امن معاہدے غیر مؤثر ہوچکے ہیں۔ ملا نذیر کے ایک کمانڈر شمس اللہ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی۔ اگر وزیرستان میں ڈرون حملوں کو بند نہیں کیاگیا تو وہ حملوں میں مزید تیزی لائیں گے۔