مظفرآباد :خودکش حملہ آور کی شناخت

پاکستان میں خود کش حملے ہوتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ اس نوعیت کی پہلا حملہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں خود کش حملے ہوتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ اس نوعیت کی پہلا حملہ تھا۔
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار یعقوب خان نے کہا کہ جمعہ کو مظفرآباد میں خود کش حملہ کرنے والے کی شناخت کر لی گئی ہے۔

سردار یعقوب خان نے کشمیر کے اس خطے کی قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ خود کش حملہ آور کا نام عابد تھا جس کا تعلق وزیرستان سے تھا۔

جمعہ کو مظفرآباد شہر کے علاقے شوکت لائن میں فوجی جوانوں کی رہائشی عمارت کے احاطے میں ایک خود کش حملہ آور نے فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا تھا ۔ اس حملے میں دو فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے۔

شوکت لائن میں جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا اس کو حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ پاکستان کی فوج کے 5 اے کے برگیڈ کا ہیڈ کواٹر یہاں سے کوئی سوگز کے فاصلے پر ہے۔ اس کے نواح میں فوجیوں اور عام شہریوں کے بچوں کے لیے قائم کردہ سکول بھی ہیں۔

وزیر اعظم سردار یعقوب خان نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ حملہ آور کی شناخت کیسے کی گئی اور وہ کب اور کیسے مظفرآباد پہنچا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے اس بات کی بھی کوئی وضاحت نہیں کی کہ حملہ آور کو یہ کارروائی کرنے میں کس نے مدد کی۔

تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کے نائب حکیم اللہ محسود نے مظفرآباد میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور یہ دھمکی بھی دی تھی کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر مزيد حملے کیے جائيں گے۔

پاکستان میں خود کش حملے ہوتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ اس نوعیت کی پہلا حملہ تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان نے مظفرآباد میں کارروائی کرکے پاکستانی حکام کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی کارروائی کا دائرہ کار بڑھاسکتے ہیں اور پاکستان کی فوج کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت کسی بھی جگہ نشانہ بناسکتے ہیں۔