قیدی کے ہاتھوں ساتھی قیدی کا قتل

جیلوں میں ذہنی معذور قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنجیلوں میں ذہنی معذور قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جاتا ہے
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ
  • وقت اشاعت

جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی سینٹرل جیل میں فرقہ واریت کے مقدمے کے ملزم قیدی کو ایک دوسرے قیدی نے قتل کر دیا۔

سپرٹنڈنٹ جیل ڈیرہ غازی خان شیخ محمد ندیم نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ مقتول قیدی بشیر احمد کا ذہنی توازن صحیح نہیں تھا اور ایک جھگڑے کے دوران ساتھی قیدی نے ٹین کا تیز دھار ٹکڑا اس کے گلے پر پھیر دیا اور وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکا۔

پولیس حکام کے مطابق بشیر احمد کا تعلق سنی مسلک سے تھا اور وہ گزشتہ ایک سال سے فرقہ واریت کے ایک مقدمے میں کچا قیدی تھا۔جیل حکام کے مطابق جیل کے اندر بشیر احمد کی ایک اور قیدی اللہ لعل ملنگ سے کسی بات پر ناراضگی ہوگئی اور ملنگ نے اس کا گلا کاٹ دیا۔

ڈیرہ غازی خان جیل کے سپرٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ زخمی قیدی کو جمعہ کو دن ڈیڑھ بجے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر بروقت سرجن ڈاکٹر نہ پہنچ سکا اور قیدی کے زخم سے دو گھنٹے خون بہتا رہا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ سپرٹنڈنٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان ہسپتال میں دو سرجن ڈاکٹرز ہیں جن میں سے ایک چھٹی پر تھا جبکہ دوسرے سرجن بچوں کو سکول سے لینےگئے ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ جیلوں میں عام طور پر ذہنی معذور قیدیوں کو عام قیدیوں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ تاہم جیل سپرٹنڈنٹ کے مطابق دونوں قیدی الگ الگ بیرکوں میں بند تھے اور مقتول قیدی کی کھولی کی صفائی کی جا رہی تھی کہ دونوں قیدیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ حکام نے جھگڑے کی نوعیت نہیں بتائی۔

مقتول قیدی کے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے جبکہ پہلے سے قتل کے جرم میں قید حملہ آور قیدی اللہ لعل ملنگ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔