رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے

Image
وقت اشاعت

مسلم رہنماؤں نے انیس سو بانوے میں بابری مسجد کی مسماری پر لیبرہان کمیشن کی رپورٹ فوراً پارلیمان میں پیش کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بی جے پی نے اس الزام لو مسترد کیا ہے کہ تفتیش میں اتنی تاخیر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے تعاون نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی۔

بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ بہت تاخیر سے آئی ہے لیکن اب اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے میں دیر نہیں کی جانی چاہیے۔

پارلیمان کا مون سون اجلاس دو جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔

ظفریاب جیلانی نے کہا کہ کمیشن نے آخری گواہ کا بیان چار سال قبل قلمبند کیا تھا اور ’شاید کانگریس کو یہ خدشہ تھا کہ سابق وزیر اعظم نرسیما راؤ کے کردار پر بھی اس رپورٹ میں تنقید کی گئی ہے جس کی وجہ سے کمیشن کی معیاد بڑھائی جاتی رہی۔’

بابری مسجد کے مقدمات سے وابستہ سینیئر وکیل یوسف حاتم نے کہا کہ ’ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مسجد کی مسماری میں اڈوالی اور سنگھ پریوار کے رول پر کمیشن نے کیا کہا ہے۔ آیا انہیں مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے یا بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔‘

’لیکن جیسے جیسے سماعت کے دوران شواہد پیش کیےگیے، مجھے اس بات میں کوئی شبہہ باقی نہیں رہا کہ بابری مسجد کی مسماری سنگھ پریوار کی جانب سے انتہائی جارحانہ اور (کانگریس کی) نرسیما راؤ حکومت کے ’سافٹ‘ ہندوتوا کی وجہ سے منہدم ہوئی۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا رپورٹ پارلیمان میں پیش کیے جانے کے بعد ہی پارٹی باقاعدہ رد عمل ظاہر کرے گی۔ لیکن ’ماضی میں(سی بی آئی کی جانب سے) جو مقدمات قائم کیےگیے ہیں، ان میں لال کرشن اڈوانی کو ’پھنسایا‘ گیا ہے۔’

کانگریس کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر بی جے پی کے رہنماؤں کی وجہ سے ہوئی، روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’ بی جے پی کے جتنے بھی سرکردہ رہنماؤں کو کمیشن نے طلب کیا، سب اس کے سامنے پیش ہوئے۔ ایل کے اڈوانی نائب وزیر اعظم تھے لیکن پھر بھی کئی مرتبہ جسٹس لیبرہان کے سامنے حاضر ہوئے۔’

لیکن بی جے پی کی سابق لیڈر اوما بھارتی نے جنہوں نے اب اپنی الگ جماعت بنا لی ہے، کہا ہے کہ چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ایودھیا میں جو کچھ ہوا وہ اس کے لیے معافی مانگنے کو تیار نہیں ہیں ’ چاہے اس کے لیے انہیں پھانسی ہی کیوں نہ دے جائے۔‘

اوما بھارتی اور ایل کے اڈوانی سمیت بی جے پی کے کئی سرکردہ رہنما بابری مسجد کی مسماری کے وقت ایودھیا میں موجود تھے۔ ان پر وہاں موجود لاکھوں کارسیوکوں ( ہندو مذہبی رضاکاروں) کو اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ مسجد کی مسماری پر اکسانے کا الزام ہے۔

وزیر داخلہ کی موجودگی میں رپورٹ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو پیش کرنے کے بعد ریٹائرڈ جسٹس ایم ایس لیبرہان نے کہا کہ وہ ’آزاد‘ محسوس کر رہے ہیں۔

کمیشن دسمبرانیس سو بانوے میں تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی رپورٹ مکمل ہونے میں سترہ سال کا عرصہ لگ گیا۔

جسٹس لیبرہان کے مطابق کچھ گواہوں کی جانب سے تعاون نہ ملنا تاخیر کی ایک اہم وجہ تھی لیکن انہوں نےکسی کا نام لینے یا رپورٹ کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔

لیکن شاید ان کا اشارہ کلیان سنگھ کی طرف تھا جو بابری مسجد کی مسماری کے وقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تھا اور کافی عرصے تک کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کرتے رہے تھے۔

کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا تھا کہ چھ دسمبر کو ایودھیا میں کارسیوکوں کے اجتماع کے دوران مسجد کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیےگیے ہیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے انہیں متنازعہ مقام پر ایک عارضی مندر کی تعمیر نہ روکنے پر ایک دن کے لیے علامتی طور پر جیل بھیجا تھا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان دگ وجےسنگھ نے کہا کہ جب مسجد گرائی جارہی تھی تو’ اڈوانی، اوما بھارتی، اشوک سنگھل‘ ونے کٹیار۔۔۔ سب وہاں موجود تھے اور خوشیاں منا رہے تھے۔۔۔وہ یہ نعرہ لگا رہے تھے کہ ایک دھکہ اور دو بابری مسجد توڑ دو۔۔۔ لیکن یہ لوگ دوغلی زبان بولنے کے ماہر ہیں، بعد میں اڈوانی صاحب نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا انتہائی افسوسناک موقع تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ مسجد کا انہدام ہندوؤں کے لیے فخر کا لمحہ تھا۔‘

ایل کے اڈوانی سمیت بی جے پی اور بجرنگ دل کے کئی رہنماؤں پر اترپردیش کی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت جاری ہے۔اگر کمیشن کی رپورٹ میں نئے الزامات عائد کیےجاتے ہیں تو انہیں موجودہ مقدمات میں ہی شامل کرلیا جائے گا۔

رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ پر بنیادی طور پر دو طرح کے مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ ایک اس زمین کے مالکانہ حقوق کے بارے میں جہاں انیس سو بانوے تک بابری مسجد تعمیر تھی اور دوسرے مقدمات ان لوگوں کے خلاف ہیں جن پر مسجد کو مسمار کرنے کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے۔ ان میں سے ایک مقدمے میں لال کرشن اڈوانی بھی ملزم ہیں۔