بچی کی شادی، باپ گرفتار

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں پولیس نے ایک شخص کو اپنی نو عمر بیٹی کا نکاح کرانے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے، پولیس کا کہنا ہے نکاح خواں بھی زیر حراست ہیں۔
جمشید ٹاؤن پولیس کے ایس پی جاوید اکبر نے بتایا کہ گزشتہ شب اطلاع ملی تھی کہ اعظم بستی میں ایک سات یا آٹھ سالہ لڑکی زاہدہ کی شادی کی جارہی ہے۔ جس پر پولیس نے پہنچ کر لڑکی کے والد عبدالرسول کوگرفتار کرلیا بعد میں نکاح خوان قاری نجیب شاہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا تاہم لڑکا دلشاد فرار ہوگیا ہے۔
اعظم بستی یوسی تین کے نائب ناظم اورنگزیب نے صحافیوں کو بتایا کہ زاہدہ کی والدہ ان کے پاس آئی تھیں اور بتایا تھا کہ ان کا شوہر دوسری شادی کے لیے اپنی آٹھ سالہ بیٹی کا نکاح کرا رہا ہے۔
جس خاتون حسینہ سے وہ شادی کا خواہش مند ہے وہ پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ہے جسے وہ عدالت کے ذریعے طلاق دلانا چاہتا ہے۔
اورنگزیب کے مطابق زاہدہ کا جس لڑکے دلشاد سے نکاح پڑھایا گیا وہ حسینہ کا بھائی ہے اور دونوں خاندان قریبی رشتے دار ہیں، پولیس نے ان کی اطلاع پر پہنچ کر کارروائی کی۔
آٹھ سالہ زاہدہ کا کہنا تھا کہ اس سے ایک کاغذ پر انگوٹھا لگوایا گیا جو خراب ہوگیا جس پر دوبارہ دوسرے کاغذ پر انگوٹھے کا نشان لیا گیا۔
زاہدہ نے بتایا کہ جو لوگ کاغذ لیکر آئے تھے انہوں نے بتایا تھا کہ تین بار منظور ہے کہنا ہے جب اس سے یہ پوچھا گیا تو اس نے ہاں کہہ دیا۔

اس نے بتایا کہ اس وقت اس کا والد موجود نہیں تھا، اسے کچھ پلایا گیا تھا، وہ ہوش میں نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زاہدہ کے والد عبدالرسول کا کہنا ہے کہ اسے کچھ پلایا گیا تھا اس کوکچھ پتہ نہیں، وہ نکاح کے وقت موجود نہیں تھا اس نے مزید کچھ بتانے سے انکار کیا ۔
زیر حراست نکاح خواں قاری نجیب شاہ کا کہنا ہے کہ نکاح کے وقت لڑکی کا وکیل اور دو گواہ مقرر ہوتے ہیں جو شہادتیں دیتے ہیں، جب ساری کاغذی کارروائی مکمل ہوگئی تو انہوں نے پوچھا کہ لڑکی کی عمر کیا ہے تو لڑکی کے والد عبدالرسول نے سولہ سال لکھوائی۔
انہوں نے بتایا کہ نکاح نامے پر انگوٹھا لگاتے وقت انہوں نے لڑکی پر کپڑے ڈالے ہوئے تھے انہوں نے کہا تھا ہاتھ سے لگتا ہے کہ اس کی عمر کم ہے جس پراس کے والد کہنے لگے کہ آپ بے فکر ہوجائیں اس کی عمر سولہ سال ہے مگر قد کی چھوٹی ہے۔
ایس پی جاوید اکبر کا کہنا ہے قانونی ماہرین سے مشاورت کی جارہی ہے کہ کس قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی نو عمر لڑکے لڑکی کا نکاح پڑھانے کے الزام میں پولیس نےبچوں کے والدین کوگرفتار کیا جنہیں بعد میں آپس میں سمجھوتہ ہونے پر رہا کردیا گیا تھا۔






















