ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کی ذمہ داریاں بڑھا دی گئی ہیں لیکن دوسری جانب چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ زیر التوا مقدمات کی تفتیش بھی مکمل نہیں ہو پا رہی جس کی وجہ سے ان واقعات میں متاثرہ افراد شدید پریشان ہیں۔
پولیس اہلکاروں کی سپیشل ڈیوٹیوں کی وجہ سے تھانے ویرانی کا منظر پیش کرتے ہیں اور مدعی مقدمات کی پیروی اور چوری ہونے والی اشیا کی برآمدگی کے لیے مقدمے کے تفتیشی افسروں کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن اُن کی دادرسی نہیں ہو رہی ۔
آئی ایٹ کے رہائشی عقیل احمد کا کہنا ہے کہ چارماہ قبل اُن کے گھر میں نقب زنی کی واردات ہوئی تھی جس میں اُن کے گھر کا ملازم بھی ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس واقعے کی رپورٹ بھی درج کرلی تاہم ابھی تک اس مقدمے کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سپیشل ڈیوٹیوں کی وجہ سے وہ ملزمان کے پیچھے نہیں جا سکتے البتہ اگر وہ اپنے گھریلو ملازم کو پکڑ کر ہمارے حوالے کردیں تو ہم اُس سے مسروقہ مال کی برامدگی کروالیں گے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ اہم شہروں میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں پولیس کو گذشتہ کئی ماہ سے ریڈ الرٹ پر رکھا گیا ہے۔اس ضمن میں پولیس نے مختلف شہروں میں مختلف مقامات پر متعدد ناکے لگا رکھے ہیں تاکہ شدت پسند اور اسلحہ سے بھری ہوئی گاڑیوں کا پتہ چلایا جاسکے۔
صرف اسلام آباد کے شہری علاقوں میں 60 سے زائد ناکے لگائے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ لاہور کے مختلف علاقوں میں پولیس کے ناکوں کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ کراچی میں ان ناکوں کی تعداد 500 سے زائد ہے۔ پشاور شہر میں ان کی تعداد 130 سے زائد ہے جب کہ پولیس کے سب سے کم ناکے کوئٹہ میں ہیں جن کی تعداد 40 سے زائد ہے۔ بلوچستان میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹیں پولیس پوسٹوں سے زیادہ ہیں۔
اسلام آباد اور ملک کے مختلف صوبوں کی پولیس کی طرف سے تھانوں میں درج ہونے والے مقدمات کے حوالے سے نیشنل پولیس بیورو کو بھیجی جانے والے رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ وارداتیں گھریلو نقب زنی اور ڈکیتی کی ہو رہی ہیں جن میں ملزمان لوگوں سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پولیس ذرائع کے مطابق ان ناکوں کی وجہ سے راہزنی اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ صرف اسلام آباد شہر میں سنہ 2009 کے پہلے پانچ ماہ اور 26 دنوں میں 37 گاڑیاں چوری ہوئی ہیں جب کہ گدشتہ برس اس مدت کے دوران 90 سے زائد گاڑیاں چوری ہوئی تھیں۔
اسی طرح لاہور میں اس عرصے کے دوران مختلف تھانوں میں گاڑی چوری ہونے کی 159 رپورٹیں درج کی گئی ہیں جب کہ سنہ 2008 کے اس عرصے کے دوران صرف لاہور شہر میں 378 گاڑیاں چوری ہوچکی تھیں۔
کراچی میں گاڑی چوری ہونے کی وارداتوں میں کمی ہونے کی بجائے اُس میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور اب تک اس شہر میں چوری ہونے والی گاڑیوں کی تعداد چار سو سے زائد ہوچکی ہے۔۔ ان شہروں میں نقب زنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
صرف اسلام آباد شہر میں رواں سال کے پہلے پانچ ماہ اور 26 دنوں میں چوری اور ڈکیتی کے زیر تفتیش مقدمات کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے اور مسروقہ مال کی برآمدگی کی حوالے سے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
اسلام آباد کے نواحی علاقے بارہ کہو کے رہائشی محمد اعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ دیہی علاقوں کی تھانوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کو سپیشل ڈیوٹیوں پر بھیج دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر ان علاقوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور لوٹ مار کرنے کے بعد با آسانی علاقے سے فرار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب لوگ ان واقعات کی رپورٹ درج کروانے کے لیے ان تھانوں میں جاتے ہیں تو تھانے کے گیٹ کے باہر سپاہی اُنہیں کہتا ہے کہ اندر کوئی نہیں ہے آپ یہ درخواست مجھے دے دیں یا پھر آپ اگلے روز آجائیں تاکہ متعلقہ پولیس اہلکار موجود ہوں اور اُن کی رپورٹ درج کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے رویے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اُن افراد کے مقدمات کی تفتیش کریں گے جو اسلام آباد کے شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیہی علاقوں میں پولیس نے رات کا گشت بھی ختم کر دیا ہے۔
ایس ایس پی اسلام آباد طاہر عالم کا کہنا ہے کہ چوری، ڈکیتی اور نقب زنی کی وارداتوں کا سراغ لگانے کے لیے مختلف سیل قائم کرنے کے علاوہ ایک خصوصی سیل کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی بھی قائم کیا گیا ہے۔
اس خصوصی سیل میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 40 سے زائد ہے اور ان پولیس اہلکاروں کو امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کی صورت میں ہی سپیشل ڈیوٹیوں پر بھیجا جاتا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس میں آئندہ مالی سال کے دوران نئی بھرتیاں کی جائیں گی تا کہ شہر میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھا جاسکے۔






















