’مذاکرات کا نہیں حتمی فیصلے کا وقت ‘

- مصنف, عباد الحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ اب مذاکرات کا نہیں بلکہ حتمی فیصلوں کا وقت ہے اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات سرفراز نعیمی کی ہلاکت پر ان کے بیٹے سے تعزیت کے بعد اتوار کو لاہور کی جامعہ نعیمیہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جو چھپ کر وار کرتے ہیں اور سوات میں روایتی نہیں بلکہ گوریلا جنگ لڑی جا رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد ملک دشمن ہیں جب کہ فاٹا اور سرحد کے لوگ محب وطن ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے لیے قائداعظم کا ساتھ دیا اور اب اسے قائم رکھنے کے لیے ان کا بڑا اہم کردار ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مٹھی بھر عناصر ملک میں امن وامان کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو علٰیحدہ صوبہ بنانے کے معاملے میں انفرادی رائے پر بات نہیں کی جا سکتی بلکہ اس حوالے سے جو بھی اقدام کیے جائیں گے وہ آئین کے مطابق ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے آئین کے مطابق چلنا ہے اور صوبے کی تقسیم کے حوالے سے اگر کوئی خواہش رکھتا ہے تو وہ پارلیمنٹ اور آئین کے ذریعے یا پھر اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے اس پر بات کرسکتے ہیں تاہم انفرادی حیثیت سے اس پر رائے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘
صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے سوال پر یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی حیثیت سے پنجاب سمیت تمام صوبوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس بارے میں انیس سو اکیانوے میں جو معاہدہ ہوا تھا اسی کے تحت صوبوں کو پانی ملے گا اور کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سترہویں کا خاتمہ کیا جائےگا کیونکہ ایسا کرنا ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اس لیے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی کیا رائے رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے مزید کہا کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے بڑی کمیٹی تشکیل دینے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو بھی احساس محرومی نہ ہو اور اسی لیے اس جماعت کو بھی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے جس کا صرف ایک ووٹ ہے۔






















