بارہ فوجی ہلاک دس زخمی

فوجی قافلہ(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز پر حملوں کاآغاز ایک ایسے وقت ہوا ہے جب بیت اللہ محسود کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے افغان سرحد کے قریب ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں فوج کے ترجمان کے مطابق بارہ فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں دس شدت پسند مارے گئے۔

اس سے قبل ملنے والی اطلاعات میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اتوار کی شام افغان سرحد کے قریب کژہ مداخیل سے میرانشاہ جانے والے قافلے پر مقامی طالبان نے وچہ بی بی کے مقام پر پہاڑی سلسلوں سے راکٹوں اور خود ہتھیاروں سے حملے شروع کیے ہیں۔جس کے نتیجہ میں جانی نقصان ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق قافلے پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی شروع کی جس میں کوبرا ہیلی کاپٹر کے علاوہ توپخانے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہاڑی سلسلوں میں بھر پور حملے ہو رہے ہیں۔

حافظ گل بہادر کے مقامی کمانڈر نے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔انہوں نے ایک نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قافلے پر حملے میں سکیورٹی فورسز کے پچاس سے زیادہ اہلکار ہلاک جبکہ سولہ گاڑیوں کو تباہ کیاگیا ہے۔

کمانڈر نے بتایا کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے بند نہیں ہوتے وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ان کے مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ ان کا حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ غیر موثر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت تک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے جب تک علاقے میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔

جمعرات کو مولوی نذیر گروپ کے ایک کمانڈر شمس اللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں اس وقت ان کےگروپ کا حکومت کےساتھ کسی قسم کا کوئی امن معاہدہ موجود نہیں۔

دو دن پہلے جنوبی وزیرستان ہی میں امریکی جاسوس طیاروں نے ایک ہی روز میں دو مرتبہ محسود کے علاقے میں بیت اللہ گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان حملوں میں طالبان جنگجو بھی مارے گئےتھےجس کی تصدیق عسکریت پسند بھی کر چکے ہیں۔

تقریباً دو سال قبل حکومت اور حافظ گل بہادر گروپ کےمابین ایک امن معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ اور شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ نے سکیورٹی فورسز پر حملوں کاآغاز ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب جنوبی وزیرستان میں فوج نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف ’آپریشن راہ نجات‘ شروع کر رکھا ہے۔

آئی ایس پی آر بیان

پاکستان فوج نے دعوی کیا ہے کہ صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی کاروائیوں میں سکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ آوروں کو تربیت دینے والے ایک عسکریت پسند کو گرفتار کرلیا ہے اور دو مبینہ خودکش گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا گیا جبکہ جھڑپوں میں ایک نان کمشنڈ افسر ہلاک ہوگئے ہیں۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوکرئی کے علاقے کو کلیئر کردیا ہے اور اس دوران خودکش حملہ آوروں کے ایک تربیت کار عبد الرحمان سمیت دو اور کمانڈروں اکبر اور سلیم کو گرفتار کر لیا گیا۔ خودکش حملوں کےلیے استعمال ہونے والی دو گاڑیوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خزانہ، زرہ خیلہ، گمگوٹ، چالیار، رنگیلہ، شاہ ڈھیرئی، میرہ بانڈہ اور گھڑی کے علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کردیا ہے جبکہ منگلتان کے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

ادھر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے وانا خمرنگ سڑک کھولنے کےلیے آپریشن شروع کردیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے مکین، لدھا اور سراروغہ کے علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جبکہ اس دوران عسکریت پسندوں کی طرف سے تنئی قلعے پر حملے میں ایک نان کمشنڈ افسر ہلاک ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں وزیرستان متاثرین میں سولہ ٹرک راشن تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دس ٹرک راشن اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء پلاکاؤ ڈھری، ہٹیاں، شیر گڑھ، ہوتی مردان، جمال گھڑی، مردان اور چارسدہ میں واقع کیپموں میں تقسیم کیا گیا ۔ مالاکنڈ کے متاثرین میں پچاس ہزار سے زائد کیش کارڈ بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مینگورہ اور بونیر میں ٹیلی فون، موبائل سروس اور گیس کی سپلائی بحال کردی گئی ہے۔