پاکستان ناکام ریاستوں میں دسویں نمبر پر

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنشدت پسندی میں گھیرے پاکستان کو شدید معاشی بحران نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا: فارن پالیسی سروے
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان میں رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی تو دوسری جانب شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے تیس لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لیکن ان تمام وجوہات کے بر عکس دنیا کی ناکام ریاستوں میں پاکستان ایک درجے کی بہتری کے بعد دسویں نمبر پر آ گیا ہے۔

امریکی جریدے فارن پالیسی کی جانب سے دنیا کی ساٹھ ناکام ریاستوں کی جاری ہونے والی فہرست میں پہلی پوزیشن پر صومالیہ ہے جبکہ ساٹھ مالک کی اس فہرست میں زیمبیا آخری پوزیشن پر ہے۔

فہرست کی تیاری میں جن وجوہات کو مد نظر رکھا گیا ہے ان میں معاشی بحران، انسانی حقوق، بیرونی مداخلت، نقل مکانی اور مہاجرین، حکومت کی کمزور عملداری، داخلی سلامتی، قدرتی آفات اور عوامی خدمات کی صورتحال شامل ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندی میں گھیرے پاکستان کو شدید معاشی بحران نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا جو اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے سہارے زندہ ہے۔

رپورٹ میں کالعدم لشکر طیبہ کو القائدہ کا اتحادی بتایا گیا ہے اور اسے پاکستان کی سلامتی کے لیے طالبان سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

ناکام ریاستوں کی فہرست میں افغانستان ساتویں نمبر پر، سری لنکا بائیسویں اور بنگہ دیش انیسویں نمبر پر ہے۔