تین افسر اور تیرہ فوجی

فوجی قافلے پر حملہ فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے فوجی قافلے پر حملہ انضر کس کے علاقے میں کیا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ فوج جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے خلاف آپریشن نہیں کرے گی بلکہ یہ آپریشن بیت اللہ محسود گروپ کے خلاف ہے جو پاکستان میں خودکش حملوں کے نوے فیصد واقعات میں ملوث ہے۔

پیر کو وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی فوج نے وزیرستان میں آپریشن شروع نہیں کیا تاہم فوج ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے انضر کس کے علاقے میں فوجی قافلے پر حملہ کرکے سولہ فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی افسران بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے شمالی وزیرستان اور سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں مختلف کارروائیوں کے دوران اٹھارہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ فوج نے سوات اور بونیر کو ملانے والے راستوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس پر پہلے شدت پسندوں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔

طالبان لیڈر حافظ گل بہادر کی جانب سے حکومت کے ساتھ امن معائدہ ختم کرنے کے اعلان کے بارے میں سوال پر فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو کوئی بھی بیت اللہ محسود گروپ کا ساتھ دے گا اُس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی چاہیے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا حکومت یا فو ج مذکورہ طالبان رہنما کے ساتھ دوبارہ امن معاہدے کی کوشش کرے گی یا نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کسی بھی غیر ملکی دباؤ پر بھارت کے ساتھ ملنے والی سرحدوں سے فوج واپس نہیں بُلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور اب یہ کمانڈروں پر منحصر ہے کہ اُنہیں اس آپریشن کے لیے کتنی فوج درکار ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنخوازہ خیلہ میں مختلف کارروائیوں کے دوران اٹھارہ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے

انہوں نے کہا کہ سوات اور مالاکنڈ میں آپریشن راہ راست تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے تاہم اُنہوں نے اس ضمن میں کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

انہوں نے کہا کہ سوات اور بونیر میں بجلی بحال کردی گئی ہے جب کہ نقل مکانی کرنے والوں میں سے 50 ہزار لوگوں کو کیش کارڈ جاری کیے گئے ہیں اور اب تک 50 کروڑ سے زائد رقم کی ادائیگی ہوچکی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ نو ہزار کیش کارڈ تیار کیے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ آپریشن راہ راست کے دوران گرفتار ہونے والے شدت پسندوں میں مقامی افراد کے علاوہ افغانی، اُزبک اور تاجک شامل ہیں اور ان افراد کو اُن کے ملک نہیں بھیجا جائے گا بلکہ اُن کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق ہی کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کو کوئی نام نہیں دیا جائے گا بلکہ جہاں کہیں بھی حکومت کی عمل داری کو چیلنج کیا جائے گا سکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں گی۔