لوڈ شیڈنگ میں تیس فی صد اضافہ

 شدید گرمی سے سڑکوں اور بازاروں کی رونقیں مانند پڑ گئی ہیں جبکہ گرمی کی شدت سے بیمار ہوکر ہسپتال پہنچنے والے افراد کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشن شدید گرمی سے سڑکوں اور بازاروں کی رونقیں مانند پڑ گئی ہیں جبکہ گرمی کی شدت سے بیمار ہوکر ہسپتال پہنچنے والے افراد کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے بیشتر علاقے اس برس کی شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں ہیں جس سے لوگوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ گرمی کی اس شدت میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں آج اچانک تیس فی صد اضافہ ہوگیا ہے اور بعض شہروں میں بجلی کا تعطل سولہ گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔

پاکستان کا گرم ترین شہر تربت ہے جہاں دو روز سے درجۂ حرارت اڑتالیس سے ساڑھے اننچاس سینٹی گریڈ کے درمیان رہا۔دوسرے نمبر پر بنوں اور سبی رہے جبکہ تیسرا گرم ترین شہر لاہور ہے۔

شدید گرمی نے پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے جس نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔سڑکوں اور بازاروں کی رونقیں مانند پڑ گئی ہیں جبکہ گرمی کی شدت سے بیمار ہوکر ہسپتال پہنچنے والے افراد کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ لوگ بارش کے لیے اجتماعی دعائیں کررہے ہیں اور مساجد سے اذانیں دی جارہی ہیں۔

شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے مختلف شہروں میں لوگوں کی قوت برداشت جواب دے گئی۔سندھ اور پنجاب کے بعض شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔لاہورمیں لبرٹی مارکیٹ اور مال روڈ پر تاجروں نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔لاہورکے نواح میں مظاہرین نے پٹٹری پر لیٹ کر ٹرینوں کو روک لیا جبکہ جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ ٹائر جلاکر ٹریفک بلاک کی گئی۔

اس شدید گرم موسم میں بجلی اور پانی کی غیر معمولی قلت نے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔بچوں بڑوں کو راتیں جاگ کر گذارنا پڑ رہی ہیں۔بجلی کی قلت میں شدت گذشتہ دو ہفتوں سے آئی ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ دوہفتوں سے سولہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ جاری تھی لیکن اتوار اور پیر کی درمیانی شب منگلا ڈیم میں فنی خرابی نے بجلی کی قلت میں کم از کم تیس فی صد تک اضافہ کردیا ہے۔

پاکستان میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کے ترجمان محمد خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے ملک میں تقریبا ڈھائی ہزار میگا واٹ تک بجلی کی قلت تھی لیکن منگلا ڈیم کی فنی خرابی سے اس میں گیارہ سو میگا واٹ کا اضافہ ہوا ہے۔پیپکو حکام کاکہنا ہے کہ اس سے گوجرانوالہ،گجرات،سیالکوٹ،وزیر آباد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ علاقے متاثر ہوئے ہیں لیکن ان علاقوں کو دوسرے شہروں کی بجلی فراہم کی جارہی ہے جس سے دوسرے شہر بھی متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کی وجہ سے پہاڑوں سے برف پگھلی ہے اور پانی کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بجلی کی پیدوار کسی حد تک بڑھائی جاسکتی ہے لیکن جولائی کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں مون سون کے آغاز سے پہلے لوگوں کو گرمی میں کمی کے حوالے سے کوئی زیادہ خوشگوار خبر نہیں سنائی جاسکتی۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل چودھری قمرالزمان کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو روز میں بالائی پنجاب اور کشمیر میں درجہ حرارت معمولی کم ہونے کا امکان ہے لیکن بلوچستان سندھ اور جنوبی پنجاب بدستور گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔