’پیسہ ہڑپ نہیں کرنےدیاجائےگا‘

افتخار چوہدری
،تصویر کا کیپشنافتخار محمد چوہدری نےفریقین کو یہ معاملہ چودہ جولائی تک آپس میں طے کرنے کی مہلت دی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قوم کا پیسہ کسی کو ہڑپ نہیں کرنے دیا جائےگا اور ایسا کرنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔

پیر کے روز حارث سٹیل ملز اور بینک آف پنجاب کے درمیان نو ارب روپے قرضے کے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ دورگُزر چکے ہیں جب کسی معاملے کو التواء کا شکار کرنے کے لیے مقدمات کو طوالت دی جاتی تھی۔

عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اُس وقت تک حارث سٹیل ملز کے اثاثہ جات کو فروخت نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے حارث سٹیل ملز کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے مؤکل سے پوچھیں کہ وہ بینک آف پنجاب کا نو ارب روپے کا قرضہ واپس کردیں ورنہ عدالت اپنے طریقے سے یہ رقم واپس لے لے گی۔

عدالت نے بینک آف پنجاب کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ وہ بینک کے سابق صدر ہمیش خان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کریں جس پر بینک آف پنجاب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیش خان اس وقت امریکہ میں ہیں اور اُنہیں اس ضمن میں مطلع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ہمیش خان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے اس لیے اُنہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ واپس آئے تو اُنہیں گرفتار کرلیا جائے گا جس پر چیف جسٹس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک مذکورہ شخص کو گرفتار نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ بینک آف پنجاب کے سابق صدر ہمیش خان حارث سٹیل ملز کے مقدمے میں فریق بنائے جانے کے بعد پشاور کے راستے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے قرض دینے کے لیے مناسب ضمانت حاصل نہیں کی تھی۔

عدالت نے اس مقدمے کی آئندہ سماعت پر مدعی اور مدعا علہیان کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

افتخار محمد چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت اس مقدمے پر کارروائی روکتے ہوئے فریقین کو یہ معاملہ چودہ جولائی تک آپس میں طے کرنے کی مہلت دی ہے۔

واضح رہے کہ حارث سٹیل ملز نے پہلے بیرسٹر اعتزاز احسن کو اپنا وکیل مقرر کیا تھا اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت خود کریں گے اس لیے اگر وہ پیش نہیں ہونا چاہتے تو اس مقدمے کی پیروی چھوڑ دیں۔

سابق صدر پرویز مشرف نے جب نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا تھا تو اس مقدمے میں افتخار محمد چوہدری کی پیروی اعتزاز احسن نے کی تھی۔

یہ مقدمہ جیتنے کے بعد اعتزاز احسن نے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی مقدمے کی پیروری کے سلسلے میں چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگرنےگزشتہ برس حارث سٹیل ملز اور بینک آف پنجاب کی طرف سے درخواست پر اس مقدمے کی سماعت لاہور ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں منتقل کردی تھی۔