’امن معاہدہ ختم، ڈرون حملے بند کرو‘

ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو سکیورٹی فورسز نشانہ بناتے رہیں گے: احمد اللہ احمدی
،تصویر کا کیپشنڈرون حملے بند نہ ہوئے تو سکیورٹی فورسز نشانہ بناتے رہیں گے: احمد اللہ احمدی
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حکومت کے ساتھ طے پانے والا امن معاہدہ پہلے ہی سے غیر مؤثر ہوچکا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے باوجود بھی ڈرون حملے اور فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے بند نہیں ہوتے وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ان کے مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ ان کا حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت تک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے جب تک علاقے میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔

جمعرات کو مولوی نذیر گروپ کے ایک کمانڈر شمس اللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں اس وقت ان کےگروپ کا حکومت کےساتھ کسی قسم کا کوئی امن معاہدہ موجود نہیں۔

تقریباً دو سال قبل حکومت اور حافظ گل بہادر گروپ کےمابین ایک امن معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ اور شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ نے سکیورٹی فورسز پر حملوں کا آغاز ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب جنوبی وزیرستان میں فوج نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف ’آپریشن راہ نجات‘ شروع کر رکھا ہے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ایک مسجد کے قریب گولہ گرنے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں اور ٹانک میں بھی ایک کارروائی کے دوران دو شدت ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں زیڑی نور فوجی کالونی اور زالئی سکاؤٹس قلعہ پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان اور سکیورٹی فوسز کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئی جو رات بھر جاری تھی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس دوران مارٹر کا ایک اعظم ورسک کے گاؤں کلوشہ میں ایک مسجد کے قریب گرا ہے۔ جس کے نتیجے میں تین عام شہری ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا کہ ان جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے تنائی اور وانا کے درمیان مین شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے سبزی منڈی میں میوے سے بھری سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ٹانک میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں دو شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ٹانک پولیس کے ایک افسر محمد حُسین نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ ٹانک شہر کے علاقے خدریاں میں ایک مکان کے اندر بیت اللہ گروپ سے تعلق رکھنے والے کچہ شدت پسند چھپے ہوئے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں ٹانک میں طالبان کمانڈر راشید زرگر اور اکرام اللہ کو فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکرام اللہ کا بھائی قاری حیات اللہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ایک اور شدت سبحان اللہ کی لاش ٹانک کے قریب پھتر کے علاقے سے ملی ہے جسے نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔انہوں نے کہا سبحان اللہ کا ایک بھائی کچھ عرصے پہلے لکی مروت کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے تھے۔