بچی کی شادی، قانونی ابہام، رکاوٹیں

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی میں پولیس قانونی ابہام کی وجہ سے نو عمر بیٹی کا نکاح کرانے کے الزام میں گرفتار والد، دولہااور نکاح خواں کا ریمانڈ نہیں لے سکی ہے۔ جوڈیشل مئجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تاہم ماہر قانون کہتے ہیں کہ یہ مقدمے عام عدالتوں کو سننے کا اختیار حاصل ہے۔

کراچی کے علاقے اعظم بستی میں آٹھ سالہ زاہدہ کی نو عمری میں شادی کرانے کے الزام میں اتوار کی شب لڑکی کے والد عبدالرسول، پندرہ سولہ سالہ دولہا دلشاد اور نکاح خوان قاری نجیب شاہ کوگرفتار کرلیا گیا تھا۔

محمود آباد پولیس نے پیر کو تینوں کو جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں جسمانی رمانڈ کے لیے پیش کیا۔

بچوں کی شادی کے خلاف قانون انیس سو انتیس میں بنایا گیا تھا جس کے تحت بچوں کی شادی اور کسی نو عمر لڑکی سے شادی پر پابندی ہے۔ قانون کے مطابق اٹھارہ سال سے زائد عمر کا کوئی مرد اگر کسی نو عمر لڑکی سے شادی کرنے کا مرتکب پایا گیا تو ایک ماہ یا اس زائد عرصے کی قید یا ایک ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ملی سکتی ہیں۔

بچوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک کے ڈائریکٹر انیس جیلانی کہتے ہیں کہ یہ مقدمہ عام عدالتوں میں جانا چاہیئے۔

’اگر لڑکے کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے تو یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ یہ معاملہ جوینائل کورٹ میں جائے گا، مگر پاکستان میں خالصا جوینائل کورٹ تو کوئی بھی نہیں ہے جو موجودہ عدالتیں ہیں ان ہی کے پاس جوینائل کورٹس کے بھی اختیارات ہیں‘۔