آپریشن، خودکش حملہ: بتیس افراد ہلاک
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
- وقت اشاعت
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مالاکنڈ میں جاری آپریشن، وزیرستان میں جھڑپوں اور بلوچستان کے علاقے سوراب میں خودکش حملے کے نتیجے میں بتیس افراد ہلاک ہو گئے۔
پاکستان فوج کے ایک بیان کے مطابق شاہ ڈھیرئی میں سکیورٹی فورسز نے جنوب سے شمال تک سمائی کلی، بوکہ، ڈنڈے اور یخ تنگی سر کے علاقوں کو کلئیر کردیا ہے۔
تاہم دوسری طرف شمالی اور جنوبی وزیرستان کے کئی علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپخانے سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور علاقے کی اکثر شاہراہوں کو بند کردیاگیا ہے۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق
پاکستان فوج نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے اضلاع سوات اور دیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں اٹھارہ عسکریت پسند اور تین سپاہی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ تئیس شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادی بیہہ میں سرچ آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے اٹھارہ شدت پسندوں کو ان کے ساتھی محفوظ علاقے تک نہیں پہنچا سکتے تھے جس پر انہیں اپنے ہی ساتھیوں نے کمانڈر کے حکم پر گلہ کاٹ کر ہلاک کردیا۔

بیان کے مطابق سوات کے علاقے شاہ ڈھیرئی میں جھڑپوں کے دوران تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین افسروں سمیت آٹھ زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے جنوب سے شمال تک سمائی کلی، بوکہ، ڈنڈے اور یخ تنگی سر کے علاقوں کو صاف کردیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے راحت کوٹ، جختی اور فتح پور میں سرچ آپریشن کے دوران مزید آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تحصیل مٹہ اور وینئی میں بھی مقامی لوگوں کی نشاندہی پر آٹھ شدت پسندوں کو مارا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیر بالا میں قومی لشکر کی کارروائیوں میں دو شدت پسند ہلاک جبکہ ان کے پندرہ مکانات کو نذرآتش کردیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع شانگلہ کے علاقوں بشام، درمل، شنگ اور درمنگ میں ٹیلیفون، موبائل سروس اور گیس کی سپلائی بحال کردی گئی ہے۔ سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع بونیر کے زیادہ تر متاثرین اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکاروں کی ترقی
صوبہ سرحد حکومت نے سوات میں آپریشن کے دوران ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں کو اگلے عہدوں پر ترقی دینے کا اعلان کیا ہے۔
سرحد حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سپاہی سے لے کر ڈی ایس پی تک وہ تمام پولیس اہلکار جو سوات میں آپریشن کے دوران ڈیوٹی پر موجود رہے انہیں اگلے عہدوں پر ترقی دے دی گئی ہے۔
پشاور میں ایک تقریب میں آئی جی سرحد ملک نوید نے صوبہ کے مختلف اضلاع کے ایک درجن پولیس اہلکاروں کو ان کی بہادری کے صلے میں تعریفی اسناد بھی بیج دیئے ہیں۔
دیر: ’لشکر کا اہم طالبان مرکز پر قبصہ‘
ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں حکام کے مطابق مقامی لوگوں پر مشتمل حکومت کے حامی قومی لشکر نے مقامی طالبان کے ایک اہم مرکز شاٹ کس پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ لڑائی میں چھ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

تھانہ شرینگل دیر بالا کے ایک اہلکار رحیم گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیر کی شام قومی لشکر نے طالبان کے ایک اہم مرکز شاٹ کس پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں سے شدت پسندوں کو نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر نے اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے گیارہ کے قریب مکانات اور تربیتی مراکز کو آگ لگاکر تباہ کردیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا کہ گزشتہ شام سے جاری لڑائی میں اب تک چھ شدت پسند مارے جاچکے ہیں جبکہ سات زخمی بتائے گئے ہیں۔ جھڑپوں میں لشکر کے دو رضاکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قومی لشکر نے کئی دنوں کی لڑائی کے بعد غازگئی کے آس پاس واقع تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان کے مطابق عسکریت پسندوں کو اب غازگئی کے علاقے تک محدود کردیاگیا ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لشکر نے غازگئی کے کچھ مقامات پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے تاہم مقامی طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
وزیرستان میں جھڑپیں، سینکڑوں لوگ محصور
ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی و جنوبی وزیرستان میں منگل کے روز شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں لیکن دونوں طرف سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے کئی علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپخانے سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور علاقے کی اکثر شاہراہوں کو بند کردیاگیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منگل کی صُبح جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں سکاؤٹس کیمپ وانا، زیڑی نور فوجی کالونی اور زالئی سکاؤٹس قلعہ پر مقامی طالبان نے راکٹوں اور خودکار ہھتیاروں سے حملے کیے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں طالبان کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے لیکن دونوں طرف سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
حکام کے مطابق ان جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے وانا سے ملنے والے تمام راستوں کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ مختلف علاقوں میں پھنس گئے ہیں۔ وانا کی فروٹ منڈی کے اندر میوے سے بھری ہوئی سینکڑوں گاڑیاں بھی کھڑی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے قریب ڈگری کالج کے سامنے ایک ناکے پر سکیورٹی فورسز نے ایک گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کیا لیکن گاڑی کو نہ روکنے پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی دی جس کے نتیجےمیں صابر خان نامی ایک قبائل ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صابر خان تین سال دبئی میں گزارنے کے بعد ایک مہینہ پہلے وانا واپس آئے تھے۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان میں بھی مقامی طالبان نے میرانشاہ سکاؤٹس قلعہ پر راکٹوں سے حملے کیے ہیں۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کی ہے جس میں توپخانے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میرانشاہ کے قریب گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔جس کی وجہ سے اکثر لوگ بازاروں سے نکل کر گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔
اس کے علاوہ نیم قبائلی علاقے جانی خیل میں بھی سرچ آپریشن کے سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہے سکیورٹی فورسز نے طالبان کے ٹھکانوں پر توپخانے کا بھی استعمال کیاگیا ہے۔لیکن دونوں جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
بلوچستان: ہوٹل میں خودکش حملہ، چار ہلاک
ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ بلوچستان کے علاقے سوراب میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر واقع ایک ہوٹل میں خودکش حملے میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئٹہ سے تقریباً تین سوکلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع سوراب شہرکے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر منگل کے روز دوپہر بارہ بجے کے قریب ایک نامعلوم شخص نے بارود سے بھری گاڑی کو بسم اللہ ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑا کیا اور خود ہوٹل میں چلا گیا۔
پولیس نے مزید بتایا کہ کچھ دیر بعد حملہ آور نے ہوٹل میں اپنے آپ کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور دس افراد زخمی ہو گئے جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ پولیس کے بقول جیسے ہی حملہ آور نے اپنے آپ کو ہوٹل کے اندر اڑایا اس کے ساتھ ہی پارکنگ میں کھڑی بارود سے بھری گاڑی بھی دھماکے سے اڑ گئی۔
سوراب پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے سے آدھ گھنٹے قبل تقریباً چالیس کے قریب کنٹینر اس ہوٹل سے قافلے کی صورت میں کوئٹہ کے راستے افغانستان کے لیے روانہ ہوئے تھے۔






















