’پیٹرول دس، ڈیزل بارہ فیصد مہنگا‘

پیٹرول اب باسٹھ روپے تیرہ پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا
،تصویر کا کیپشنپیٹرول اب باسٹھ روپے تیرہ پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا
    • مصنف, ذیشان حیدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

یکم جولائی کو نئے مالی سال کے آغاز پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی جگہ کاربن سرچارج کے نفاذ کے ساتھ ہی پیٹرول کی قیمت میں دس اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے بارہ فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

کاربن سرچارج کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت پانچ روپے بانوے پیسے اضافے کے ساتھ باسٹھ روپے تیرہ پیسے ہو گئی ہے جبکہ اب ہائی سپیڈ ڈیزل باسٹھ روپے پینسٹھ پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل چوّن روپے چورانوے پیسے فی لیٹر کی نئی قیمت پر فروخت ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امورِ پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین ک مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناگزیر تھا کیونکہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد میں مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ کاربن سرچارج کے نفاذ سے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کا نظام نہایت سادہ کر دیا گیا ہے اور اب پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست تعلق عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں سے ہوگا یعنی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی براہِ راست صارف کو منتقل کیا جا سکے گا۔

تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کا نظام نہایت سادہ کر دیا گیا ہے:ڈاکٹر عاصم
،تصویر کا کیپشنتیل کی قیمتوں میں ردوبدل کا نظام نہایت سادہ کر دیا گیا ہے:ڈاکٹر عاصم

ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے وزارتِ پیٹرولیم کو بھیجی جانے والی سمری میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے بیس پیسے، لائٹ اور ہائی سپیڈ ڈیزل آئل کی قیمت میں چھ روپے جبکہ ہائی آکٹین کی قیمت میں آٹھ روپے پچاس پیسے اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔

سنہ 10۔2009 کے فنانس بل میں حکومت نے پیٹرول پر دس روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل پر آٹھ روپے، لائٹ ڈیزل آئل پر تین روپے، مٹی کے تیل پر چھ روپے اور ہائی آکٹین پر چودہ روپے فی لیٹر کاربن سرچارج لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سرچارج کے نفاذ سے حکومتِ پاکستان کو نئے مالی سال میں ایک سو بائیس ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ فنانس بل میں حکومت نے سی این جی پر بھی یہ سرچارج عائد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں عوام کے احتجاج اور ارکانِ پارلیمان کی کڑی تنقید کے بعد وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے سی این جی پر عائد سرچارج واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ حکومت نے گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے حکم پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے پینتالیس پیسے کمی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی اس کمی کو عوام اور ماہرین نے توقعات سے کافی کم قرار دیا تھا تاہم حالیہ اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر ملک میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں بارہ فیصد سے زائد کے اضافے کا براہِ راست اثر ملکی صنعت، ذرائع آمدورفت اور زراعت کے شعبوں پر پڑے گا جس کے نتیجے میں ملک میں جاری مہنگائی کی لہر مزید تیز ہوگی۔