سندھ: ریلوے لائن اور ٹرالر پر بم حملے

پاکستان ریلوے
،تصویر کا کیپشنبم حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ سندھ سے پنجاب جانے والی مرکزی ریلوے لائن پر بم حملے کی وجہ سے ریلوے ٹریفک چند گھنٹوں تک معطل رہی۔

یہ حملہ سندھ کے علاقے سرحد میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب پنجاب سے کراچی جانے والی ٹرین خیبر میل کے گزرنے کے چند منٹ بعد ہوا۔

دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن کی مرمت کے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

گھوٹکی پولیس کا کہنا ہے کہ سرحد تھانے کی حدود میں منگل کی رات گئے ایک بم دھماکے کے بعد مرکزی ریلوے لائن چار فٹ تک اکھڑ گئی اور تین فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔گھوٹکی کے ضلع پولیس افسر جاوید جسکانی کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی ہے اور مزید تفتیش کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

دوسری جانب صوبہ سندھ کے شہر سکرنڈ کےقر یب قومی شاہراہ پر پنجاب جانے والے ایک ٹرالر پر بم حملہ ہوا ہے جس کےنتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔سکرنڈ پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم دہشتگردوں نے ٹرالر پر دستی بم سے حملہ کیا اور فرار ہوگئے ۔

ریلوے لائن اور ٹرالر پر بم حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ سندھ میں مالاکنڈ متاثرین کی آمد کے خلاف ایک سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ یعنی جسمم نے یکم جولائی سے تین روزہ پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کر رکھی ہے۔جسمم کی جانب سے مختلف شہروں میں ایسے پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہڑتال کے تین دنوں کے دوران ٹرینوں ، بسوں اور دیگر سواریوں میں سفر کرنےسے گریز کریں۔ پمفلٹ میں لوگوں کو اپنے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔