’کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں روکی جائیں‘

’غیرمقامی افراد مظفرآباد میں فلاحی سرگرمیوں کی آڑ میں نئی تعمیرات کر رہے ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’غیرمقامی افراد مظفرآباد میں فلاحی سرگرمیوں کی آڑ میں نئی تعمیرات کر رہے ہیں‘
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم ایک غیرسرکاری تنظیم نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ایک خط میں کالعدم شدت پسند تنظیموں کی اس علاقے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔

پریس فار پیس کے سربراہ ظفر اقبال نے اس مکتوب میں وزیر اعظم کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کی ہے تاکہ بقول ان کے مقامی آبادی کو دہشت گردی سے بچایا جاسکے۔ تنظیم کے مطابق بعض غیرمقامی مشتبہ افراد کتھیاں پیراں، اٹھ مقام، شاہ کوٹ، دودنیال اور ضلع نیلم کے قرب وجوار میں دیہات میں کیمپس قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ظفر اقبال کے مطابق اس خطے میں عوام بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے بعد نئی زندگی استوار کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرمقامی افراد مظفرآباد میں فلاحی سرگرمیوں کی آڑ میں نئی تعمیرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند برس قبل ایک کشمیری نوجوان کی ہلاکت مبینہ طور پر کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ لہٰذا ایک مرتبہ پھر مقامی آبادی اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کر رہی ہے۔

پریس فار پیس کا مؤقف ہے کہ کئی پاکستانی اہلکار جماعت الدعوۃ کو ملکی سکیورٹی کے لیے شدید خطرہ قرار دیا تھا لہٰٰذا کشمریوں کو اس علاقے میں اس تنظیم کے کارکنوں کی موجودگی سے تشویش لاحق ہے۔ ’وہ اسے خطے میں امن اور آشتی کے لیے شدید خطرہ تصور کرتے ہیں۔‘

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے رہنما عبدالرحمان مکی نے کشمیر میں اضافی سرگرمیوں سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مقامی آبادی سے کشیدگی کی بھی تردید کی تھی۔

اس غیرسرکاری تنظیم نے حکومت پاکستان سے ان مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرکے ان سے مقامی آبادی کو بچانے کی اپیل کی ہے۔ یہ مکتوب جس کی ایک کاپی بی بی سی کو بھی موصول ہوئی ہے کب وزیر اعظم کو ارسال کیا گیا اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

ماضی میں اس مسئلے پر عوامی حلقوں میں خوف کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی لیکن اب اس رجحان میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔