’بیرونی سرٹیفیکیٹ سے مسئلے حل نہ ہوں گے‘

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفارتکار احمد کمال نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی کمیشن میں نہ ماہرین ہیں اور نہ اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی ہی نظر آتی ہے۔ لہذا اس کمیشن کی رپورٹ سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ سے زیادہ مختلف ہونے کا امکان بہت کم ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے احمد کمال نے کہا کہ ’اس کمیشن کا زیادہ سے زیادہ پاکستان کو یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ اسے ’اچھی حکومت‘ کا سرٹیفیکیٹ مل جائے۔ لیکن بلوچستان کے مسئلے سمیت یہاں مسائل اتنے کٹھن ہیں کہ ایسا سرٹیفیکیٹ مل جانے سے بھی پاکستان کے مسائل کا حل نہیں نکلے گا۔‘
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن کو دی گئی چھ ماہ کی مدت یکم جولائی سے شروع ہو گئی ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کے ساتھ طے شدہ تفصیلات کے مطابق چھ ماہ بعد اس کمیشن کی رپورٹ حکومت پاکستان کے حوالے کر دی جائے گی۔
احمد کمال کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ میں بھی لوگ یہی پوچھ رہے ہیں اور یہی جاننا چاہتے ہیں کہ اتنی مدت گذر جانے کے بعد اقوامِ متحدہ کا کمیشن آخر کیا کر سکتا ہے۔ ’اس کمیشن کے پاس تو تحقیقات کے لیے پیسے بھی نہیں ہیں چنانچہ اقوامِ متحدہ مختلف ممالک سے پیسے مانگ رہی ہے تاکہ اس کمیشن کو پاکستان بھیج کر تحقیقات شروع کر سکے۔‘
سابق سفارتکار کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ اتنی مدت گذر جانے کے بعد اس تحقیقات سے کوئی خاص بات نہیں نکل سکتی۔ ’لہذا بظاہر ایسے دکھائی دیتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ اسے ایک ایسی رپورٹ مل جائے جس پر اقوامِ متحدہ کا ٹھپہ لگا ہوا ہو۔‘
احمد کمال کے مطابق اگر ایسی کوئی رپورٹ تیار بھی ہوئی تو وہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ سے مختلف نہیں ہوگی۔ ’اقوامِ متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ بالکل ویسی ہی ہوگی جیسی سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ تھی۔ البتہ فرق یہ ہوگا کہ اس پر اقوامِ متحدہ کا ٹھپہ ہوگا۔‘
واضح رہے کہ برطانوی پولیس اس قتل کے فوراً بعد پاکستان آئی تھی اور جائے حادثہ کا دورہ کرنے اور پولیس اور دیگر حکام سے انٹرویوز کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران نے اس قتل کے بارے میں ابتدائی رپورٹس تیار کی تھیں۔
سکاٹ لینڈ کی رپورٹ کے مطابق بینظیر بھٹو کے سر کے دائیں جانب جو زخم تھا وہ گولی لگنے سے نہیں تھا۔ محدود ایکسرے مواد ، مکمل پوسٹ مارٹم اور سی ٹی سکین نہ ہونے کی وجہ سے برطانوی ہوم آفس کے پیتھالوجسٹ ڈاکٹر نیتھینیل کیری سے مشاورت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے میں اوپری دھڑ میں قطعی طور پر گولی لگنے کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔تاہم رپورٹ میں لکھا گیا کہ جب ان کے اخذ کردہ نتائج کو بینظیر بھٹو کی لاش سے قریبی تعلق رکھنے والوں کی باتوں اور دیگر دستیاب شواہد کے تناظر میں جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گولی لگنے کا کوئی زخم نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں احمد کمال نے کہا کہ پاکستان حکومت کو اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا یہ فائدہ ہوگا کہ حکومت کو ’اچھائی کی سند‘ مل جائے گی لیکن مہنگائی، بجلی کے مسائل، امن و امان کے معاملات اور بلوچستان کی صورتِ حال جیسے مسائل انتہائی کٹھن ہیں جن کا حل اگر پاکستان کو اچھائی کا بیرونی سرٹیفیکیٹ مل بھی جائے، تو بھی نہیں نکل سکتا۔






















