پناہ گزین: ’واپسی پر ایک ماہ کا راشن‘

بیان میں البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک کتنے خاندانوں نے اپنے علاقوں میں واپسی اختیار کی ہے
،تصویر کا کیپشنبیان میں البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک کتنے خاندانوں نے اپنے علاقوں میں واپسی اختیار کی ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

خوراک کی فراہمی کے اقوام متحدہ کے ادارے نے صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلعوں اور ان سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں فوجی کارروائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو اپنے علاقوں میں واپسی کے موقع پر ایک ماہ کا راشن دینے کا اعلان کیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاکستان میں نمائندے وولف گینگ ہربنجر کے مطابق فنڈز کی قلت کے باوجود انہوں نے ایسےدو ہزار خاندانوں کے لئے ماہانہ راشن پیک تیار کیے ہیں جنہیں صوبے میں قائم کیے گئے پینتیس مقامات پر تقسیم کے لئے پہنچا دیا گیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام سے جاری ہونے والے بیان میں البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک کتنے خاندانوں نے اپنے علاقوں میں واپسی اختیار کی ہے اور اس موقع پر یہ راشن بیگ وصول کیے ہیں۔

حکومت نے بھی واپس جانے والے پناہ گزینوں کے لئے پچیس ہزار روپے فی خاندان تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت بھی ان پناہ گزینوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کے بیشتر علاقے کو شدت پسندوں سے خالی کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی توقع کے مطابق شروع نہیں ہوئی ہے۔

ضلع بونیر، سوات اور دیر کے صرف ان علاقوں میں کسی حد تک لوگ اپنے گھروں کو لوٹے ہیں جہاں سے نقل مکانی کرنے والے قریبی علاقوں ہی میں پناہ لی تھی۔

صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع میں قائم کی گئی درجن بھر سے زائد خیمہ بستیوں میں شدید گرمی اور ناکافی سہولیات کے باوجود ان بستیوں سے پناہ گزیوں کی بڑے پیمانے پر واپسی تاحال شروع نہیں ہوئی ہے۔