افغان سرحد پر پاکستانی فوج تعینات

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق افغان صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف آپریشن کے آغاز کے بعد ملحقہ پاکستانی سرحد پر فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فوجی دستوں کو افغان سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ علاقے میں موجود فوج کی پوزیشنوں میں ردوبدل کا نتیجہ ہے اور علاقے میں مزید فوج نہیں بھیجی گئی ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی فوج کی افغان سرحد کے اس خاص حصے پر منتقلی کا بالواسطہ تعلق افغان علاقے میں امریکی اور افغان فوج کے بڑے فوجی آپریشن سے ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ یہ تعیناتی افغان علاقے میں آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی پاکستانی علاقے میں ممکنہ منتقلی روکنے کے لیے کی گئی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد قریباً سولہ سو میل طویل ہے اور افغان صوبے ہلمند سے ملحقہ سرحد کی لمبائی قریباً ایک سو ساٹھ کلومیٹر ہے اور یہ علاقہ پاکستانی صوبے بلوچستان کے علاقوں دالبندین اور نوشکی کے ساتھ واقع ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں امریکی فوج نے افغان فوج کے ساتھ مل کر افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا ہے جس میں تقریباً چار ہزار امریکی میرین اور چھ سو پچاس افغان فوجی حصہ لے رہے ہیں جنہیں امریکی جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے۔
امریکی بریگیڈیئر جنرل لیری نکولسن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شروع کیا گیا آپریشن فوجیوں اور ساز و سامان کے جحم اور برق رفتاری کی وجہ سے سے دوسری امریکی کارروائیوں سے مختلف ہے۔ امریکی زمینی فوج کے مطابق ویتنام کی جنگ کے بعد امریکی میرینز نے کسی بھی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں حصہ نہیں لیا۔
افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب فوجی یونٹ جمعرات کی صبح وادیِ ہلمند میں داخل ہوئے۔ ہیلی کاپٹر اور بڑی گاڑیوں کی مدد سے امریکی اور افغان فوجیوں نے پیش قدمی کی جبکہ نیٹو کے جہازوں نے انہیں فضائی مدد فراہم کی۔ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق اس کارروائی کو ابتدائی طور پر چھتیس گھنٹوں تک انتہائی جارحانہ رکھا جائے گا۔ آپریشن کا مقصد اگست میں ہونے والے صداراتی انتخابات سے قبل افغانستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنانا ہے تاکہ ووٹروں کی رجسٹریشن ممکن ہو سکے۔


















